شب برات

پندرہ شعبان کی رات اللہ تعالٰی کی جانب سے اپنے گناہوں کی معافی اور اللہ رب العزت کی طرف سے بخشش کی طلب کی رات ہے۔ مشرک اور کینہ پرور کے سوا جو بھی توبہ کر کے اللہ کریم سے اسکی رحمت مانگے گا مل جائے گی ۔ حقوق اللہ کی نافرمانی کی معافی تو خود رب العزت کے ہاتھ میں ہے مگر حقوق العباد کی معافی اس وقت تک نہیں ہوگی جب تک کہ وہ شخص خود معاف نہ کر دے۔ آج کی رات مانگنے اور پانے کی رات ہے۔

پاکستان کی حدود میں ہر روز کئی بے گناہ اور معصوم لوگ اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں شہید ہو رہے ہیں ۔ ان کے پیچھے کون ہے یہ میرے لیے اہم نہیں ہے، میرے لیے اہم بلکہ پریشانی کا باعث یہ بات ہے کہ ان کا آلہ کار کون ہے اور کیوں ہے؟ مرنے والے کا تعلق کس مذہب کس فرقے کس صوبے کس ذات کس محلے یا کس سیاسی جماعت سے ہے میرے لیے اہم نہیں ہے، میرے لیے تشویش کا باعث یہ امر ہے کہ وہ پاکستانی تھا اور کسی گھر کا فرد تھا ایک انسان تھا جسے بغیر کسی جرم کے کسی گناہ کے صرف اس لیے مار دیا گیا کہ پاکستان میں ہر مرنے والے کو کسی نہ کسی لیبل سے چپکا دیا جاتا ہے سوائے پاکستانیت کے۔ مقصد تقسیم در تقسیم در تقسیم ہے۔ ملک کے خلاف نفرت، فوج کے خلاف نفرت اور اس مٹی کے خلاف نفرت پھیلانا ہے۔ کبھی سوچیں کہ کسی کرسچن کو مار کے ایک سر پھرے قاتل کو کیا ملے گا؟ اس کے پیچھے یا تو مذہبی جنونیت کا برین واش ہوگا یا پھر پیسہ جو اس کی اوقات سے بھی زیادہ اسے دے دیا گیا ہوگا۔ مجھے اس قاتل سے بھی اتنی شکایت نہیں ہے کیونکہ وہ تو بے ضمیر ہے یا کسی لالچ یا مجبوری کے ہاتھوں بک گیا۔ مجھے شکایت ہے اس حاکم سے جس نے اس ملک میں جمہوریت کے نام پر ووٹ حاصل کیا اور جس سے ووٹ حاصل کیا اور جس کے لئے ووٹ حاصل کیا وہ دونوں ہی اقتدار میں آنے کے بعد اس کی ذمے داری نہیں رہے۔ قوم کی حالت بدلنے کے لیے ذمینی سٹرکچر کھڑے کرنے سے حالات نہیں بدلتے بلکہ نفسیاتی، معاشی، سماجی، معاشرتی، جسمانی اور نظریاتی قومی سٹرکچر کی تعمیر سے قومیں بدلتی اور بنتی ہیں۔ بنیادی عوامی ضروریات کی فراہمی جن میں پیدائش اور روٹی کی فراہمی سے لیکر اس کی قبر تک کے ذاتی معاملات میں بہتری اور لگاتار اس سلسلے میں امپروومنٹ کی لانگ ٹرم پالیسیوں کی تشکیل، حاکم کی پہلی ذمے داری ہے۔ یعنی حقوق العباد کا پورا کرنا ہی گڈ گورننس کا پہلا مرحلہ ہے۔ دوسرے نمبر پر ہے اس شہری کی نفسیاتی تعمیر۔ جس میں اسکی علمی حیثیت کو بڑھانا اور اس کے اخلاق کی تعمیر ہے۔ اس کے کردار کی تعمیر اور اس کے اندر پاکستانیت کا ایسا نور بھرنا ہے کہ کوئی دنیا کے سب خرانے بھی قدموں میں ڈھیر کردے پاکستان کے خلاف کوئی بات نہیں سننی کجا یہ کہ غداری اور دشمنی پر اتر آئے۔ ذہن سازی کی پہلی منزل ہے ایک بہترین اور پرسکون و پرامن گھریلو اور معاشرتی نظام پھر ایک انتہائی نفیس اور بہت اعلٰی معیار کا بہت سائنسی اور نفسیاتی تحقیق کے مطابق تیار کیا ہوا تعلیمی نظام۔ ایک ایسا نظام جو اخلاقی اور نفسیاتی تعمیر پر توجہ دے۔ جو بہترین انسان اور محب وطن پاکستانی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ کتاب کا عمل دخل صرف اس حد تک ہو کہ جہاں دنیاوی اور روحانی علوم کی مستند اور جامع معلومات کی فراہمی کے لئے طالب علم کو تحقیق سے یہ بات واضح کرنی ہو کہ جو استاد نے پڑھایا وہ کائنات کے مالک اور انسانی محققین نے ثابت کیا ہوا ہے اور وہ کتاب اس کا حوالہ ہے۔ ورنہ استاد کا پڑھایا ہی علم کے طالب کے قلب پر نقش کرنے کے لیے کافی ہونا چاہئے۔ کتاب کا طالب علم سے رشتہ تب جڑتا ہے جب وہ خود تحقیق کے عمل سے منسلک ہوتا ہے۔ استاد کے ہاتھوں میں پلنے والے شاگرد کی قلب کی آنکھ اگر نہیں کھلی تو اس استاد کے علم اور اس کے ایمان میں کہیں نہ کہیں کوئی خلاء یا کمی ہوگی۔ یعنی علم کی روشنی کو پھیلانے والا معلم اور استاد اگر عالم کامل ہونے کی حدوں تک نہیں پہنچ سکا تو اس کے ہاتھ سے فیض ممکن ہی نہیں ہے۔ استاد کا درجہ انبیاء کرام کے بعد آتا ہے۔

جس معاشرے میں قابل والدین اور کامل اساتذہ نہیں ہوتے وہاں خودکش حملہ آور تیار ہونے لگتے ہیں اور غنڈہ گردی کا راج ہوتا ہے۔ انسانی اور اخلاقی اقدار مردہ ہو جاتی ہیں اور ایک بے لگام معاشرہ، ایک مادر پدر آزاد معاشرہ جنم لیتا ہے۔ ایک ایسا نظام ابھرتا ہے جہاں مارنے والے کو یہ نہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس کو کیوں مار رہا ہے اور مرنے والے کو یہ نہیں معلوم ہوتا ہے کہ اسے کیوں مارا گیا۔ نفسیاتی مریض اور مجرم اقتدار میں آ جاتے ہیں جن کے ہاتھوں سے کرپشن، اقرباء پروری، جرم کی افزائش اور قتل غارت گری کا بازار گرم ہو جاتا ہے۔ عوام میں شعور کی کمی اور بالآخر اچھے اور برے کی تمیز ختم ہو جاتی ہے۔ اخلاقی طور پر ایسی قومیں کنگال ہو جاتی ہیں اور گناہ و ثواب کی پہچان بھی نہیں رہتی۔ یہ وہ آخری حد ہوتی ہے بے راہ روی اور گراوٹ کی جس کے بعد قوموں کا زوال شروع ہو جاتا ہے اور ان قوموں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے۔

ملک میں امن کی بحالی کو فوج سے منسوب کر کے یہ حاکم اور لیڈر اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فوج کا کام معاشرتی اصلاح نہیں ہے۔ اخلاقیات کی تعمیر بھی نہیں ہے۔ اس کا کام تو وطن عزیز کی دفاعی حیثیت کو مضبوط بنانا ہے اور دشمن کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے رہنا ہے۔ سیاسی جماعتوں اور لیڈروں کا کام ہے قوم و ملت کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر۔ جیسا کہ میں اوپر بیان کر چکا ہوں۔

اب یہ بات واضح ہے کہ حکمران ہی اس چیز کے ذمے دار ہیں کہ قوم کی اخلاقی تعلیمی نفسیاتی روحانی اور معاشرتی تربیت اور اصلاح کا کام کرے۔ انسان اور محب وطن پاکستانی اس معاشرے کی اصل ضرورت ہیں۔ جب جنگل میں بھیڑیے بڑھ جاتے ہیں تو دیگر سبزہ کھانے والے جانور ناپید ہو جاتے ہیں اور کچھ عرصہ میں جنگل اتنے گھنے ہو جاتے ہیں کہ بھیڑیے بھی اس میں چلنے پھرنے کے لائق نہیں رہتے اور بالآخر وہ بھی بھوکے مر جاتے ہیں اور جنگل جڑی بوٹیوں کے باعث اس قدر گچھم گچھا ہو جاتے ہیں کہ پیڑ سوکھنے اور گلنے سڑنے لگتے ہیں اور کیڑے مکوڑے اور جراثیم اس جنگل کو ہی ختم کر دیتے ہیں اور وہاں صحرا اور بیابان پیدا ہو جاتے ہیں کیونکہ جب جنگل ختم ہو جاتے ہیں تو بارش نہیں برستی اور جب بارش نہیں برستی تو زمین سوکھ جاتی ہے اور آہستہ آہستہ اتنی سخت ہو جاتی ہے کہ وہاں کچھ بھی نہیں اگ سکتا اور کچھ بھی نہیں رہ سکتا۔

چیک کریں کہ کہیں ہمارے معاشرے میں بھیڑیوں کی تعداد بڑھ تو نہیں گئی؟؟؟ کیا ہم بھی تو بیابان بننے کے راستے پر نہیں چل پڑے؟ اگر ایسا ہے تو بھیڑیوں کی تعداد کم کرنی ہوگی اور ان کو نکیل ڈالنی ہوگی۔ اگر جنگل بچانا ہے تو ایکو سسٹم کو سیدھا کرنے کی ضرورت ہے۔ بیلنسڈ معاشرے کی بنیاد رکھنی ہوگی۔ پاکستان کو بچانا ہے تو حاکم ایسے لانے ہونگے جو حکمت اور تدبر سے قوم کی تعمیر کر سکیں۔ عالم فاضل اور ایماندار، دیانت دار اور سچے انسان اور اپنی ذات سے ہٹ کر بے لوث خدمت کرنے والے اور رب ذوالجلال کی حاکمیت قائم کر کے قرآن کی روشنی میں فیصلے کرنے والے فرشتہ صفت اور محب وطن پاکستانی لیڈروں کی ضرورت ہے۔ یہ چور لٹیرے علم و دانش سے عاری بھکاری مداری اور جعلی سیاسی لیڈر ہماری تباہی کا باعث تو بن سکتے ہیں کبھی ہمارے اصلی اور وفادار حاکم نہیں بن سکتے۔

آج کی رات ختم ہونے سے پہلے پہلے اس رب کائنات سے اپنے ملک کے لیے بہترین قائد مانگ لیں۔ ملک کے حق میں کئے گئے ہمارے غلط فیصلوں کی معافی مانگ کر ایک روشن اور خوبصورت پاکستان مانگ لیں۔ اللہ عزوجل سے اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگ کر اپنی اگلی نسلوں کے لئے ایک پاکیزہ اور پرامن پاکستان مانگ لیں۔

یا اللہ ہمیں معاف کر دیں اور ہمارے حال پر رحم فرمائیں اور ہمیں ابوبکر عثمان عمر اور علی رضی اللہ عنہما جیسے حاکم اور محمد صل اللہ علیہ وسلم کی خوشبو والے لیڈر عطاء فرما دیں۔ یا اللہ ان موجودہ دجالی فتنوں سے ہمیں نجات دلا دیں۔ کیونکہ ہم کمزور ہیں ان کا مقابلہ کرنے کی سکت کھو چکے ہیں اور اب آپ ہی پر بھروسہ اور نگاہ ہے۔ یا اللہ ہمیں مایوس نہ کرنا۔ یا اللہ پاک فوج کو سلامت رکھنا اور ہمارے خلاف اندرونی اور بیرونی حملوں میں اس کا ساتھ دینا اور ہماری حفاظت کے قابل بنا کے رکھنا۔ آمین ثم آمین ۔

یا اللہ اپنے پیارے محبوب کے صدقے ہمیں ایک بار پھر سے قائد اعظم جیسا کوئی راہنما عطا فرما دیں جو ہمیں ان اندر کے دشمنوں سے نجات دلا دیں۔ آمین

یا اللہ اس ملک کے سب دشمنوں اور غداروں کو اپنے قہر سے نیست و نابود فرما کر ہمیں ایک پرامن اور ترقی یافتہ پاکستان عطا فرما دیں آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔

تحریر: تاثیر اکرام رانا

اپنا تبصرہ بھیجیں