کب تک چلے گا یہ تماشا؟

یوں تو ہر جگہ موجود شیاطین اپنا کام کر رہے ہیں اور انسانیت کو بہکا رہے ہیں مگر پاکستان میں اس وقت جو ماحول چل رہا ہے وہ انتہائی متخنجر ہے۔ (میرے سکول کے وقت کے ایک دوست تھے جو اکثر انتہائی خراب حالات میں یہ لفظ متخنجر استعمال کیا کرتے تھے۔) عوامی ذہن ماوف کرنے کے لیے عجیب و غریب قسم کی باتیں کر رہے ہیں۔ آج ایک شہر کے سیاسی جلسے میں ملک کے ایک انتہائی نااہل لیڈر نے اپنے کسی اسسٹنٹ کے کہنے پر اپنی مخالفت کے لیے خلائی مخلوق کا ذکر کیا۔ یہ ایک ایسا بیان تھا جس سے مجھے ان کے نااہل ہونے سے زیادہ نامعقول ہونے کا اندازہ ہوا۔ کسی ٹی وی چینل نے اس پر بہت خوبصورت ری مکس بھی بنا دیا۔ مجھے اکثر اوقات یہ بات سمجھانے میں دقت پیش آتی تھی کہ اس سیاسی جماعت کے سربراہان میں عقل و دانش کا فقدان ہے مگر آج مجھے یہ بات سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اب اس جماعت کے سب سے اوپر والے لیڈر اور ان کی دختر نیک اختر نے ایسا کچھ کہنا شروع کر دیا ہے کہ ایک عام آدمی بھی ہنس ہنس کر پاگل ہو رہا ہے۔ میرے گھر پر کام والی ماسی کہ رہی تھیں کہ ساری عمر اس پارٹی کو ووٹ دیا مگر ایک دن بھی سکھ کا سانس لینے کو نہیں ملا۔ تیس سال تک اس امید پر ان کا ساتھ دیا کہ یہ غربت ختم کر کے ہمارے دن بدل دیں گے مگر یہ لوہار سے دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شامل ہو گئے اور ہم غریبوں کے لیے مزید غربت اور افلاس کا گڑھا کھود دیا اس بدمعاشوں کے ٹولے نے ۔ اب نکیل ڈلی ہے تو ہم کو فوج اور عدلیہ کے خلاف کھڑا ہونے کے لئے آوازیں دے رہے ہیں۔ میرا بیٹا کہ رہا تھا اس مرتبہ اگر کوئی بھی ووٹ مانگنے آیا تو جتیاں مار مار کے نسا دیاں گے۔ اس عوام کو موت کے منہ میں دھکیلنے کے پروگرام بنا رہے ہیں۔ یہ لوگ ہمیں عدلیہ اور فوج کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔ مریں گے ہم اور اقتدار ان کو ملے گا ۔۔۔ اسیں کوئی پاگل ہاں؟

عوام ان سے آخری بار بریانی کھا کر ان کے ساتھ اپنی الوداعی ملاقات کر رہے ہیں۔ اب یہ جانیں اور خلائی مخلوق۔ امید ہے کہ اس بار خلائی مخلوق ان کو اس سیارے پر چھوڑ آئیں گے جہاں سے ان کو پھر کبھی نہ نکالا جائے اور ان کا یہ سوال بھی ختم ہو جائے کہ “مجھے کیوں نکالا”۔

کاش یہ نااہل نامعقول اپنی عوامی مینڈیٹ کا احترام کرتے اور ملک کو لوٹنے کی بجائے اس کی ترقی اور خوشحالی کے لئے کام کرتے۔ ان کو اتنا موقع ملا تھا کہ اگر یہ لوٹ مار کی بجائے اپنی طاقت اس ملک کے عوام کو ریلیف دینے اور ان کی غربت مٹانے پر وقف کرتے تو یہ اس ملک میں جمہوریت کے چیمپئن ہوتے۔ فوج اور عدلیہ سمیت اپنے عوام کو عزت دیتے تو کوئی خلائی مخلوق ان کی جانب نہ بڑھتی۔ اپنی ناقص اور ناکام پالیسیوں کی بجائے اگر یہ ملک کے اداروں کو مضبوط بنانے میں کامیاب ہو جاتے تو خلائی مخلوق پیدا ہی نہ ہوتی۔ جیسا بو گے ویسا کاٹو گے۔ جب انہوں نے خود کانٹے بوئے ہیں تو پھر پھولوں کی فصل کاٹنے کا خواب کیوں دیکھ رہے ہیں؟

اب تو نہ وقت ان کے ساتھ ہے نہ عوام، نہ تقدیر ان کے ساتھ ہے نہ ہی خلائی مخلوق۔ ڈان لیک سے شروع ہونے والی یہ کہانی اب اپنے منطقی انجام تک پہنچنے ہی والی ہے۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا اور اب بھی کہہ رہا ہوں کہ اس خلائی مخلوق سے خائف نامعقول کو اس کی اپنی بیٹی نے جتنا نقصان پہنچایا ہے اتنا اس کے لالچی اور ابن الوقت ایڈوائزروں نے نہیں پہنچایا۔ اس سے تو بہتر اس کا چھوٹا بھائی ہے جو باوجود اپنے بیہودہ پرجیکٹس اور مفقود دماغ کے کسی خلائی مخلوق سے پنگا نہیں لیتا اور اس نے بارہا سمجھایا بھی تھا بگ برادر کو کہ بیٹی کے پیچھے نہ لگے مگر اپنی زوجہ کی جانب سے پریشر اور اپنی بے عقلی کے باعث اس نے نہ صرف اپنا بیڑا غرق کر لیا بلکہ اپنی جماعت کو بھی ڈبو دیا۔ مگر اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔۔۔

دیکھنا تو اب یہ ہے کہ ملک کا لوٹا ہوا مال ان کے کتنا کام آئے گا جب حکومت ان کی نہیں ہوگی اور پاور شو کے لیے حکومتی مشینری استعمال میں نہیں لائی جا سکے گی ۔ اس طرح کے جعلی پاور شو اور جلسے ان کی آنکھوں پر گمراہی اور خوش فہمی کا پردہ تو ڈال رہے ہیں مگر ان کو خلائی مخلوق کی آنکھ سے اوجھل نہیں کر سکتے۔

الوداع اے نااہل الوداع ۔۔۔

خلائی شٹل پہنچ گئی ہے تمہیں اس جگہ پہنچانے جہاں سے تم کبھی نہیں نکلو گے۔ ان شاء اللہ۔

یہ خلائی مخلوق در اصل کوئی اور نہیں تمہارے اپنے ہی بد اعمال ہیں اور اب مکافات عمل کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ تمہیں کسی اور نے نہیں تمہارے اپنوں نے ڈبویا ہے اور غرق کرنا ہے۔ اس لئے گلے شکوے بھی کسی اور سے نہ کرو۔ تیار ہو جائیں اب وقت ہلاکت ہے آیا۔

تحریر: تاثیر اکرام رانا

اپنا تبصرہ بھیجیں