انتشار

پاکستان دشمن عناصر کی جانب سے جاری مہم میں منصور پشتین کی اینٹری ایک بہت بڑا قدم ہے۔ سیاسی بساط کے مرتے ہوئے مہرے اس دم پوری کوشش میں ہیں کہ ملک میں افراتفری کا آغاز کیا جائے۔ عدلیہ اور فوج کے جمتے ہوئے قدم اور ان کے مضبوط فیصلے دشمن کی آنکھوں میں رڑک رہے ہیں ۔ یہ بات واضح ہے کہ اب ان بدمعاشوں کا وقت پورا ہو چکا ہے اور جیل کے دروازے ان کا انتظار کر رہے ہیں ۔

تاریخ گواہ رہے گی کہ اپنی نااہل اولاد کے ہاتھوں نااہل ہونے والے سیاسی نااہل اور نامعقول سیاسی ڈان نے اتنی بڑی مات نہیں کھائی ہوگی جتنی نواز شریف نے کھانی ہے ۔ پاکستان کے خلاف سازش کرنے والوں کا انجام ہمیشہ بھیانک ترین ہوا ہے ۔ کوئی مانے یا نہ مانے، پاکستان کی حفاظت بھی اللہ رب العزت بالکل ویسے ہی فرما رہے ہیں جیسے حرمین شریفین اور قرآن مجید کی۔ پاکستان کی روح پاک فوج ہے۔ اسی لئے دشمن کا فوکس بھی اس فوج کے خلاف ہے۔ کوئی بھی ایرا غیرا نتھو خیرا جب اٹھتا ہے تو وہ فوج کی مخالفت کو ہی اپنا ون پوائنٹ ایجنڈا بناتا ہے اور پھر دھیرے دھیرے پاکستان مخالف لاوا اگلنے لگتا ہے۔

دشمنان پاکستان یہ بات بھول جاتے ہیں کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ سے شروع ہوتا ہے اور محمد الرسول اللہ پر مکمل ہوتا ہے ۔ اور اس کلمہ طیبہ کا محافظ اللہ پاک نے پاک فوج کو بنایا ہے ۔ اب اگر یہ گندگی کے ڈھیر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ کے سپاہیوں کو شکست دے سکتے ہیں تو میں ان کی کم علمی اور بیوقوفی کے بارے میں کیا کہوں ۔

دیوار میں ٹکر مارنے سے دیوار نہیں سر ہی ٹوٹتے ہیں ۔ بھٹو کو بینظیر اور جیالے نہ بچا سکے ۔ متوالے کیا کسی کو بچائیں گے؟

کوئی چٹی اکھے مارا جانا ہے اور پتہ وی نیئن چلنا او گیا کتھے۔۔۔۔

جاگدے رہنا۔۔ متوالیاں تے نہ رہنا۔ کیونکہ یہ پاکستان ہے۔ یہاں آج تک انقلاب نہیں آیا۔ اب بھی نہیں آئے گا ۔

بس پاکستان کو عزت دو۔

تحریر: تاثیر اکرام رانا

اپنا تبصرہ بھیجیں