مکافات عمل

یہ کہنا بالکل درست نہیں ہے کہ کوئی بھی فوجی یا سولین مکمل طور پر ایک کامل شخص ہے۔ غلطیاں ہر کوئی کرتا ہے مگر اس غلطی کی نوعیت اور حجم کتنا ہے، اس سے فرق پڑتا ہے ۔ ایک دوسرے پر الزامات عائد کر کے جرم کم نہیں ہونگے۔ قوم و ملک کو پہنچنے والے نقصانات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ماضی میں پاکستان نے اپنے ارتقائی مراحل میں جو کچھ کیا اس کے ثمرات ہم نے ستر کی دہائی تک حاصل کئے مگر اسکے بعد ایک نہ ختم ہونے والا پستی کا ایک ایسا سفر شروع ہوا جس میں کسی لمحہ کوئی وقفہ نہیں آیا۔ یحیی خان کی نااہل قیادت، بھٹو کی منافقت اور اس ملک کے صنعتی بیس کی تباہی نے ہماری کمر توڑ کر رکھ دی ۔ ایسے میں جنرل ضیاء کی حکومت نے گرتی ہوئی دیوار کو کچھ سہارا دیا مگر وہ بھی ناکافی ثابت ہوئی اور عین اس وقت جب ضیاء الحق اپنے پلان کو حتمی شکل دینے کیلئے تیار تھے انھیں ختم کر دیا گیا اور ان کے مشن کو فل سٹاپ لگ گیا۔ بینظیر نے ضیاء ڈاکٹرائین کی نہ صرف دھجیاں اڑا کر رکھ دیں بلکہ بھارت کے ساتھ ساز باز کر کے ضیا الحق کے خالصتان اور کشمیر کی آزادی کے گرینڈ پلان کو نیست و نابود کر کے رکھ دیا ۔ گھگو نواز شریف بینظیر کے مقابلے میں ایک انتہائی کمزور شخصیت کا مالک تھا مگر پنجاب کارڈ کھیل کر اقتدار میں آ تو گیا مگر سیاسی بصیرت کے فقدان اور علم و دانش کی کمی کے باعث بینظیر کا مقابلہ نہ کر پایا اور یوں مکار اور بیوقوف سیاست دانوں نے مل کر ملک کو معاشی طور پر ایک بھنور میں دھکیل دیا، اور یہی نہیں، ان دونوں نے پاکستان میں بھارتی اور سہیونی/امریکی مداخلت کا ایک ایسا دروازہ کھول دیا کہ پاکستان میں ان کے ایجنٹ ہمارے اندر ایک وائرس کی طرح پھیل گئے۔ اسی حالت میں ملک کو ایک بار پھر دانستہ طور پر مارشل لاء کی جانب دھکیل دیا گیا ۔

مشرف کے مارشل لاء کا سہرا نواز شریف کی تاحیات بادشاہت کی حرص کا نتیجہ نکلا۔ اس وقت جنرل ضیاء بٹ اگر اقتدار کی لالچ میں نواز شریف کی بجائے پاکستان کا ساتھ دیتا تو شاید ہم ایک اور مارشل لاء سے بچ جاتے۔ مجھے یہ کہنے میں بھی کوئی عار نہیں ہے کہ اگر مشرف کی جگہ جنرل علی قلی خان چیف ہوتا تو شاید حالات مختلف ہوتے۔ نواز شریف کی اقتدار کی حرص نے جتنا نقصان اس ملک کو پہنچایا ہے اتنا شاید بھٹو اور مجیب نے بھی نہیں کیا۔

جنرل مشرف کا دور حکومت کسی بہت بڑی مثبت تبدیلی کا باعث ثابت نہیں ہوا اور نہ ہی ملک میں ترقی کا عمل شروع ہو سکا۔ الٹا فوج کے لئے یہ دور ایک سیاہ دور بن گیا۔ زرداری کی حکومت بھی مشرف کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے قائم ہوئی۔ اس موقع پر جنرل کیانی نے جس طرح فوج کے امیج کو بہتر کیا وہ ایک قابل ذکر کارنامہ ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشن کا فیصلہ اور اس میں کامیابی جنرل کیانی کا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے ۔ یہاں جنرل احمد شجاع پاشا کی دور اندیشی اور آئی ایس آئی کی کمانڈ نے جس طرح سے ملکی سالمیت اور خودمختاری کی حفاظت کا کام کیا وہ قابل تحسین ہے ۔ زرداری جیسے شاطر اور کرپٹ ترین شخص کو حدود میں رکھنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جنرل کیانی کو بعد ازاں رسوا کرنے کی مہم شروع کی گئی۔ ہاں جنرل کیانی نے ایکسٹینشن لے کر شاید اپنے سب کئے پر پانی ضرور پھیر دیا ۔ مگر اسکے علاوہ اس جنرل کے خلاف کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا ۔ ان کے عزیز و اقارب نے اگر کچھ کیا ہے تو وہ یقینی طور پر اس کی سزا پائیں گے ۔ مگر ان کی غلطی کو جنرل کیانی کے سر نہیں تھوپا جا سکتا ۔ اسی دور میں فوج نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اب فوج کبھی بھی مارشل لاء نہیں لگائے گی۔ اور اب ان شاء اللہ مارشل لاء نہیں لگے گا ۔

نواز شریف کی حکومت میں واپسی اس ملک کی تاریخ کا ایک بدترین سانحہ تھا۔ جنرل راحیل شریف نے فوج کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو ایک نیا موڑ دیا اور جنرل کیانی کی پالیسی کو آگے بڑھایا اور اپنی اعلی قیادت کے باعث فوج کی عزت کو چار چاند لگائے ۔ سپہ سالار کی ایک نئی وضع قطع کا ایک ایسا نمونہ دکھایا کہ وہ ایک ہیرو بن گیا اور قوم کو امید کی کرن اس میں دکھائی دینے لگی۔ جنرل راحیل کی قد آور شخصیت نے عوام میں پھیلی مایوسی کو کم کیا مگر ساتھ ہی ساتھ ان کے دل میں مارشل لاء کی خواہش کو بھی ابھار دیا ۔ یہ ایک ایسا خواب تھا جو پورا نہیں ہو سکتا تھا ۔ نواز شریف کی فوج دشمنی عروج پر پہنچ چکی تھی اور لگ رہا تھا کہ فوج کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے گا مگر جنرل راحیل نے فوج کی قسم کا پاس کیا اور اپنے وقت مقررہ پر ریٹائر ہو گئے ۔ یہ شاید اس فوج کا جمہوریت کو سب سے بڑا تحفہ تھا۔ ہاں جنرل راحیل کی سعودی عرب روانگی شاید کوئی اچھا اقدام نہیں تھا۔ مگر یہ ان کی ریٹائرڈ زندگی کا حصہ ہے لہذا اس سے ملکی یا قومی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا ۔

نواز شریف نے فوج دشمنی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا ۔ وہ فوج کو سوکن کی طرح ڈیل کرتے ہیں ۔ ڈان لیکس جیسی گھٹیا حرکت اور فوج مخالف پالیسیوں کے ذریعے سے اس شخص نے نہ صرف ملک کی سلامتی داو پر لگا دی ہے بلکہ ملکی امیج کا بھی ستیاناس کر کے رکھ دیا ہے ۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کی کمانڈ میں فوج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو ایک نیا موڑ دے دیا ہے اور ردالفساد کے آغاز سے پورے ملک میں اس آپریشن کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف کارروائی کو مزید بہتر بنایا اور ملک میں امن کی بحالی کے لئے حیران کن پیشرفت کی ۔ نواز شریف کی پاناما لیکس میں نااہلی کے بعد سے اس کے حواری ملک کی عدلیہ اور فوج کے خلاف نبرد آزما ہیں اور آئے دن کوئی نہ کوئی نیا شوشہ چھوڑا جا رہا ہے ۔ فوج کو بار بار اکسایا جا رہا ہے کہ وہ مارشل لاء لگا دے تاکہ یہ لوگ سیاسی شہید بن جائیں ۔ فوج نے اپنی صبر و تحمل کی پالیسی کو قائم رکھنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے اور وہ کسی بھی چکر میں پھنسنے والے نہیں ہیں ۔ سیاسی افراتفری اور کرپشن کے الزامات پر عدالتوں میں گھومتے ہوئے سیاست دانوں کو اب صاف دکھائی دے رہا ہے کہ وہ اپنے بدترین انجام تک پہنچنے ہی والے ہیں ۔

مکافات عمل کا یہ سلسلہ جاری و ساری ہے ۔ جنرل باجوہ اپنے سٹائل میں آگے بڑھنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت جتنی مضبوط پاکستان کی دفاعی اور خارجہ پالیسی ہے وہ ایوب خان کے دور کے بعد شاید پہلی مرتبہ اس لیول پر آئی ہے اور اس کا مکمل سہرا موجودہ عسکری قیادت کے سر ہے۔ جنرل باجوہ نے ملکی مفادات کی حفاظت اور جمہوریت کی بحالی کے لئے ایسے مثبت اور جامع اقدامات کئے ہیں کہ آئندہ نسلیں ان کو ایک مسیحا کی طرح یاد کریں گے ۔

عدلیہ کی آزادی اور خودمختاری نے اس وقت ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے ہے کہ کرپشن کے ڈان ریت کی دیوار کی طرح ڈھیر ہوتے نظر آتے ہیں ۔ نواز شریف اور اس کے حواریوں نے یہ مہم شروع کی ہے کہ فوج اور عدلیہ مل کر جمہوریت کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں ۔ عوام کو لگاتار فوج مخالف پروپیگنڈہ کی زد میں رکھا ہوا ہے ۔ کبھی اچکزئی اور کبھی منظور پشتین کو ابھارا جاتا ہے اور کبھی مریم کا میڈیا سیل ذہر افشانی شروع کر دیتا ہے ۔ چیف جسٹس کو گالیاں دینے کا سلسلہ جاری ہے ۔ عوام کو عدلیہ اور فوج کے خلاف اکسایا جا رہا ہے ۔ دہشت گردوں کی پشت پناہی کی جا رہی ہے ۔ یہ سب کچھ ہو رہا ہے مگر فوج اور عدلیہ خاموشی سے اپنے کام میں لگی ہوئی ہے ۔ جنرل باجوہ کا یہ ماننا ہے کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی رفتار ان سیاستدانوں کی سازشوں میں الجھنے سے اور ان کا نوٹس لینے سے سست ہو جائے گی اس لئے وہ اس کو بالکل کسی کھاتے میں نہیں رکھتے۔ اس کو اگنور کرنے میں ہی بہتری ہے۔ عدلیہ مکمل طور پر آزاد ہے اور اپنا کام کر رہی ہے ۔ فوج اپنے کام میں مصروف ہے اور کامیابیاں اس کے قدم چوم رہی ہے ۔

ڈوبنے والے ڈوب جائیں گے اور مکافات عمل کے نتیجے میں غرق ہو جائیں گے اور پاکستان کے وفادار اور محب وطن عوام اپنی فوج اور عدلیہ کے ساتھ مل کر ترقی اور خوشحالی کے نئے دور میں داخل ہو جائیں گے ۔ ان شاء اللہ ۔

تحریر: تاثیر اکرام رانا

اپنا تبصرہ بھیجیں