مجھے کیا؟

قوموں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہوتا ہے کہ جب علم، عہدے اور سٹیٹس وغیرہ انسانی اقدار سے اونچے ہو جاتے ہیں۔ ہمارا ہر فعل ہماری ذات کی اٹھان سے شروع ہوتا ہے اور یہیں آ کر ختم بھی ہو جاتاہے اور اس ذات کے پہاڑ کے نیچے قومیں دفن ہو کر رہ جاتی ہیں. ذاتی تشہیر اور انفرادی ترقی سے قومی تعمیر ہمیشہ رک جاتی ہے۔ جہاں افراد قوم سے بڑے ہو جاتے ہیں وہاں قومیں چھوٹی رہ جاتی ہیں۔
کچھ ایسا ہی میرے ملک کے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔ اس قوم نے جس کسی کو بھی ابھرنے کا موقع دیا وہ قوم و ملک سے بھی بڑا ہو گیا۔ جسے علم سکھایا وہ عقل کل ہو گیا۔ جسے عہدہ اور اقتدار دیا وہ فرعون ہو گیا۔ ایسے میں اس قوم کے ساتھ ایک کھلواڑ یہ بھی ہو گیا کہ ہم ایسی مصنوعی تقسیم کا شکار ہو گئے ہیں کہ جس کی بنیاد پیسہ اور اقتدار بن گیا ہے۔ ہم ایک ایسے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں کہ جہاں ہر طرف مگرمچھوں کے پہرے ہیں اور قوم دلدل میں ہے۔ باہر نکلے تو موت اندر رہے تو موت۔ یہ مگرمچھ ہماری ہی بوٹیاں نوچ نوچ کر پلتے ہیں اور ہمیشہ ہمیں ہی کھاتے رہیں گے۔

اگر کوئی شخص قوم کی اصطلاح کے لئے اٹھتا ہے تو اسے یہ اعلیٰ درجے کے افراد اس طرح سے لتاڑتے ہیں کہ اس کی تمام تر صلاحیتیں سلب ہو کر رہ جاتی ہیں۔ یہ پہاڑوں سے بھی اونچے افراد اپنی اونچائی کے ساتھ کسی کو بھی ٹکرانے نہیں دیتے اور قوم کی اصلاح​ کی ہر کوشش کو اپنے قدموں​ تلے روند ڈالتے ہیں۔

مجھے یاد ہے کہ کچھ ایسا ہی ماحول عرب میں اسلام سے پہلے تھا اور یورپ میں صنعتی انقلاب سے پہلے تھا۔ مگر اس افرادی اور طبقاتی نظام کے خلاف عام آدمی جب متحد ہو کر اٹھے تو انقلاب آگیا اور پورا نظام اور معاشرہ ہی نہیں بلکہ نسلیں اور براعظم ہی بدل گئے. ان فرعونوں کے لئے موسی ہمیشہ عام لوگوں سے ہی ابھرتے ہیں۔ میں اور آپ اس دور کے موسی ہیں ۔ ہمیں ان فرعونوں کے تخت الٹنے ہیں۔ ہمیں اس نظام کو بدلنا یے۔ اس قوم کو اس دلدل سے نکال کر ان افراد سے اونچا کرنا ہے۔ ہماری فوج میں بڑا وہ ہے جو اس قوم کا وفادار ہے جس کا قوم سے پیار اور وفا ان فرعونوں کے قدوں سے زیادہ بڑے ہیں۔ یاد رکھیں ہر فرد اور ہر شخص اپنی قوم کے مقدر کا ستارہ ہے۔ اگر ہم کسی بھی قسم کے احساس کمتری کا شکار رہے تو انقلاب نہیں آئے گا۔ قوم آزاد نہیں ہوگی۔ ہمیں سب کچھ بھول کر ان پہاڑوں سے ٹکرانا ہے. کام مشکل ہے مگر ناممکن نہیں. راستہ طویل ہے مگر منزل تک پہنچائے گا ضرور.
ہمت اور حوصلے سے کام لے کر، اتحاد تنظیم اور یقین محکم کے اصول کو اپناتے ہوئے آئیں مل کر پاکستان کی تعمیر کریں اور اس کے ساتھ ظلم کرنے والے ہر فرعون کو غرق کر دیں۔

الله پاک ہمارا حامی وناصر ہو۔ آمین۔

پاکستان پائندہ باد۔
پاکستانی​ قوم زندہ باد۔

تحریر: تاثیر اکرام

اپنا تبصرہ بھیجیں