کالا باغ ڈیم اور بھارت کی سازشیں – روزنامہ نوائے وقت

کشن گنگا ڈیم میں منہ کی کھانے کے بعد ہمیں ادراک ہو جانا چاہئے کہ اب بھی ہم نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو دریائے کابل کے بڑے پانی سے ہمیشہ کیلئے محروم ہو سکتے ہیں کیونکہ افغانستان بھارت کی مدد سے 12 ڈیم تعمیر کرنے کے درپے ہے۔ اگر وہ ڈیم بن گئے تو ہم کشن گنگا ڈیم کی صورتحال کی طرح ہاتھ ملتے رہ جائینگے، مقدر میں صرف شرمندگی اور مایوسی ملے گی۔ پھر چاہے عدالت جائیں یا کسی کو مورد الزام ٹھہرائیں، کف افسوس ملنے کے سوا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔انڈس واٹر ٹریٹی کے Annexure D کی شق 15 (iii) کے مطابق بھارت جہلم کی کسی شاخ کے پانی کو دوسری شاخ میں لے جا سکتا ہے بشرطیکہ اُس کا پانی پاکستان کے زیر استعمال نہ ہو۔ یہاں انجینئر شمس الملک کی ایک بات غور طلب ہے۔ انہوں نے پاکستان انجینئرنگ کانگریس کے سالانہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کی واٹر پالیسی کے خدوخال نیو دہلی میں بنائے جاتے ہیں۔ یہی صورتحال نیلم جہلم ہائیڈرو پروجیکٹ کے ساتھ بھی روا رکھی گئی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے پہلے دور میں جب نیلم جہلم پراجیکٹ کا ڈیزائن مکمل ہو چکا تھا، تعمیر کی منظوری کیلئے پیش کیا گیا تو حکم ملا کہ ہم پہلے غازی بروتھا پراجیکٹ بنائیں گے جبکہ ابھی غازی بروتھا کی فزیبلٹی بھی ابتدائی مرحلے میں تھی چنانچہ نیلم جہلم پراجیکٹ کو م¶خر کرکے غازی بروتھا کی مکمل سٹڈی کروائی گئی۔ اس کا ڈیزائن بنا اور پھر پرویز مشرف کے دور میں غازی بروتھا کی تکمیل مکمل ہوئی۔ اس دوران بھارت نے کشن گنگا ڈیم شروع کر لیا۔ پاکستان نے عالمی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تو ہماری دلیل مسترد کر دی گئی کہ بھارت نے جب کشن گنگا پراجیکٹ شروع کیا تو پاکستان کے کوئی استعمالات نہ تھے۔
اگر نیلم جہلم پراجیکٹ بروقت بن چکا ہوتا تو عالمی عدالت برائے انصاف کا فیصلہ پاکستان کے حق میں آتا اور خفت کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ کشن گنگا پراجیکٹ کی تکمیل کی وجہ سے پاکستان کو کن نقصانات کو برداشت کرنا پڑیگا؟ مستقبل قریب میں مزید پتہ چل جائیگا۔ اس سے بھی بدترین صورتحال کالاباغ ڈیم کی ہے۔ کالاباغ ڈیم کو نام نہاد قوم بھارت پرستوں نے بلاوجہ ہی متنازع نہیں بنایا۔ اسکے پیچھے بھی بھارتی سازش کارفرما ہے۔
افسوس اس بات کا ہے کہ ہم آنے والی تباہی کو محسوس نہیںکرتے بلکہ ایک دوسرے سے دست و گریباں ہو کر قومی مفاد کے ایشوز کو بھی متنازعہ بنا دیتے ہیں۔ دریائے سندھ پر تربیلا سے نیچے اٹک کے مقام پر دریائے کابل آ کر گرتا ہے۔ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر دریائے سوات گرتا ہے۔ اٹک کے بعد پوٹھوہار کے وسیع علاقے جن میں ہری پور (ہزارہ)، اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم، اٹک، چکوال کے علاوہ خیبر پی کے سے پشاور، نوشہرہ کے اضلاع کے جنوبی حصہ، کوہاٹ، شمالی کوہستان کے کچھ علاقے بشمول دریائے کرم کا پانی اور اس ایک لاکھ مربع کلومیٹر کے وسیع علاقوں کی بارشوں کا پانی سیلاب کا موجب بنتا ہے۔ اٹک سے نیچے کالاباغ واحد مقام ہے، جہاں ڈیم بنا کر اس پانی کو نہ صرف جمع کیا جا سکتا ہے بلکہ پانی کو دیگر ذرائع سے کنٹرول کرکے پورے سیلابی پانی کو مستعمل بنانے کی پلاننگ بھی ہو سکتی ہے لیکن اے این پی اور جئے سندھ نے افواہوں کے زور پر خصوصاً سندھ اور خیبر پی کے میں یہ تاثر پیدا کیا کہ کالاباغ ڈیم ان صوبوں کیلئے نقصان دہ ہے۔
1983ءسے شروع ہونیوالی اس سازش کے بعد کالاباغ ڈیم سے متعلق کئی سٹڈیز ہوئیں مگر بھارتی لابی ٹس سے مس نہ ہوئی۔ اسکی ایک بڑی وجہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام بھی تھا۔ آج ملکی ہی نہیں غیر ملکی موقر ادارے بھی اس بات کے اشارے دے رہے ہیں کہ پاکستان پانی کے دباو¿ والے ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔ یہ وقت پاکستان کے محب وطن حلقوں کےلئے انتہائی فیصلہ طلب ہے کہ پاکستان کے مستقبل کو بچانے اور اس کی معیشت کو بہتر بنانے کےلئے کیا اقدامات کرنے کی ضرورت ہے؟ واضح رہے کہ اس وقت افغانستان دریائے کابل پر بھارت کی مدد سے ایک درجن ڈیم بنانے کی ابتداءکر چکا ہے۔ اگر یہ ڈیم مکمل ہو گئے تو پاکستان اندازاً 8/10 ملین ایکڑ فٹ پانی سے ہمیشہ کیلئے محروم ہو جائیگا۔ کیونکہ ایک تو افغانستان اور پاکستان کے درمیان پانی کا کوئی معاہدہ یا ٹریٹی نہیں ہے۔ دوسرے اگر کالاباغ ڈیم نہ بننے کی صورت میں افغانستان نے ڈیم بنا لئے تو اس کا موقف دنیا تسلیم کریگی کہ پاکستان تو دریائے کابل کا پانی استعمال کرنے کے قابل ہی نہیں ہے کیونکہ اس کے پاس دریائے کابل کے پانی کو مستعمل بنانے کےلئے کوئی پروگرام نہیں اور جو واحد پروگرام کال اباغ ڈیم کا ہے تو اس پر پاکستان میں اتفاق رائے نہیں۔ اس صورت میں پاکستان کی حالت وہی ہوگی جو کشن گنگا ڈیم میں بھارت کی جیت پر ہوئی اور ہم ایک دوسرے کو کوستے ہی رہ گئے۔
پاکستان کی زرعی معیشت کا دارومدار پانی پر ہی ہے۔ جس سال اچھی فصل ہوتی ہے، ہر شعبہ ہائے زندگی میں خوشحالی در آتی ہے۔ تاجروں کا کاروبار بھی خوب چلتا ہے۔ عام آدمی اور مزدور بھی اچھا لباس خریدتا ہے۔ پاکستان کی 80% سے زائد انڈسٹری بھی زرعی البنیاد ہیں۔ انہیں چلانے کیلئے زرعی خام مال اور سستی بجلی دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈیموں کے ذریعے نہ صرف پانی کی بروقت فراہمی ممکن ہوتی ہے بلکہ سستی بجلی کی پیداوار سے صنعتی پہیہ بھی خوب رواں رہتا ہے۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے جس میں چاروں صوبوں کے آبی ماہرین کی نمائندگی ہے اور اپنے صوبہ کے پانی کی نگہداشت کے علاوہ پانی کی ترسیل کے بھی ذمہ دار ہیں، 25ِ فروری 2016 کو وزارت پانی وبجلی، حکومت پاکستان کو بذریعہ حوالہ نمبر IRSA/PS/79/4210-11 سفارشت بھجوائیں کہ مستقبل کے چیلنجز پورا کرنے کےلئے:
“to put an end to the miseries faced by the country, the PSDP for all sectors be frozen for at least 5 years and funds may be diverted for the construction of mega storages (22 MAF) on priority basis in the best interest of public”.
یہ وہ سفارشات ہیں جو بشمول صوبہ سندھ اور خیبر پی کے تمام آبی ماہرین نے دی ہیں کہ قومی معیشت کو بہتر بنانے کیلئے فوری طور پر جنگی بنیادوں پر 22 ملین ایکڑ فٹ کے ڈیم بنا لئے جائیں تو ہماری معیشت بچ جائیگی جبکہ کالاباغ ڈیم صرف 6.1 MAF کا سٹوریج رکھتا ہے۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان ذخائر کو بنانے کےلئے فنڈنگ کہاں سے ہوگی؟ ہمارے معیشت کے جادوگروں کو ورلڈ بینک اور غیر ملکی ڈونرز کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ اگر قوم کو اعتماد میں لیا جائے اور پاکستان کی جامع ترقی کےلئے پروگرام وضع کیا جائے اور قومی سطح پر ڈیموں کی تعمیر کےلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے اصول پر کارپوریشن بنا کر شیئر فلوٹ کئے جائیں۔ ان شیئرز میں سرمایہ کاری کرنیوالوں کو ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے تحت استثنیٰ دیا جائے تو کالاباغ، بھاشا، اکھوڑی، بونجی ہی نہیں تمام پانی کے ذرائع پر پر محض ایک عشرہ میں کنٹرول ممکن ہے۔ اس طرح باسانی 40/50 ہزار میگاواٹ سستی ترین بجلی پیدا کرکے نہ صرف قوم کو تحفہ دیا جا سکتا ہے بلکہ ایسے پروگرام وضع کئے جا سکتے ہیں کہ پاکستان دنیا کی ایک بڑی معاشی قوت بن سکے۔

محمد سلیمان خان

اپنا تبصرہ بھیجیں