چودھری غفور کی للکار – روزنامہ نوائے وقت

جنرل مشرف دور جبر واستبداد میں ابا جی‘ میاں شریف کو احترام کے ساتھ لحد میں اتارنے والا چوہدری عبدالغفور میو بھی رزم گاہ میں آنکلا للکار رہا ہے تاریخ بیاں کر رہاہے۔ آقا کی ناموس، پاکستان کی محبت اور وفاداری کا علم ہاتھ میں اٹھائے’ہجرت کی سوختہ لاشوں کے امین میوات کے بیٹے نے بات کھول کر بیان کردی۔ بتادیاگیا کہ جنگجو میو تین چیزوں پر سمھجوتہ کرنے کو تیار نہیں خواہ کوئی بھی ہو۔ حرمت رسول پر سب کچھ لٹادینا ہمارا ایمان ہے۔ مودی سے دوستی نا منظور اور پاکستان کی فوج سے محبت کو نفرت میں بدلنا پاکستانیوں کو گوارا نہیں۔ اللہ تعالی کے حضور پیش ہونے پر اپنا جواب آخر اس نے تیار کرہی لیا۔ شریف برادرز کے بارے میں ا±ن کی گواہی معمولی نہیں۔ لوٹوں کے بازار میں وہ ایک مختلف انسان ہیں۔ جسے بکاﺅ اور مفاد پرست قرارنہیں دیا جاسکتا۔ چوہدری عبدالغفور کے مسلم لیگ (ن) سے الگ ہونے کا خاص پس منظر ہے۔ اسے سمجھے، جانے بغیر ممکن نہیں کہ شریفوں کی اس قدر قربت رکھنے والے نے اس قدر دوری اختیار کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟۔میو راجپوتوں کا جنگجو قبیلہ ہے جو دہلی کے اردگرد آباد تھا۔ علاقہ میوات بھی اسی نسبت سے مشہور ہے۔ کہتے ہیں کہ تبلیغی جماعت کی تشکیل اور جنم دراصل انہیں میواتیوں کی اصلاح کے لئے ہوا۔ گرم خون جنگجو قبیلوں کی پہچان چلاآرہا ہے۔ اس میں وفاداری ایک لازمی تقاضا جانی جاتی ہے۔ ماضی میں وفاداری کے مقابل عقل کو کمزوری قرار دیاجاتا تھا۔پھر ابدی اصول اور دانائی کی ترویج سے ذہن کھ±لے تو پتہ چلا کہ اصل مقام سچائی اور سلیم الفطرت انسانوں کے صحیح کو صحیح کہنے میں ہے۔ قصور اور لاہور کی پاک بھارت عالمی سرحد کے قریب آباد ہونے والے ان خاندانوں میں سے چوہدری عبدالغفور کے آبا نے رائے ونڈ میں سکونت اختیار کی۔ اسی لئے جاتی امراءجب شریف خاندان کی رہائش گاہ اختیارکررہاتھا تو اول اول چوہدری غفور اور ان کے والد سے ان کی علیک سلیک ہوئی۔ اور پھر معاملات وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہی چلے گئے۔
یہ وہی چوہدری عبدالغفور ہیں کہ جنہوں نے پرویز مشرف کے دور آمریت میں میاں محمد شریف کے انتقال پر یہاں تجہیز وتکفین کی ذمہ داری بیٹوں کی طرح نبھائی تھی۔ میاں شریف کے جسدخاکی کی پوری عزت وتکریم کے ساتھ وصولی اور پھر لحد میں اتارنے تک کے تمام امور چوہدری عبدالغفور اور ان کے والد کے حصے میں آئے۔
چوہدری عبدالغفور کو میاں نوازشریف کا قرب خصوصی حاصل رہا۔ وہ رکن پنجاب اسمبلی بنے، پھر وزیر بنائے گئے۔ ا±ن پر اعتماد کا یہ عالم تھا کہ نوازشریف نے 2013ءکے انتخابات میں انہیں ٹکٹ تو نہ دیا، پھر انہیں سرگودھا میں انتخابی مہم اور دیگر تمام امور کا ذمہ دار بنایا راجپوتی وفاداری نبھاتے چوہدری صاحب سرگودھا پہنچ کر اور وہاں خیمہ زن ہو گئے اور پھر کامیابی کا پھریرا لے کر ہی برآمد ہوئے شاہانہ انداز میں سرجھکائے واپس لوٹے کہ لال قلعہ سرکرآئے۔
اللہ تعالی نے چوہدری عبدالغفور کو انتظامی صلاحیتوں اور جدت خیال کے باکمال جوہر عطا فرمائے ہیں۔ سیاحت کے فروغ کے ادارہ (پی ٹی ڈی سی) کی ذمہ داری ملی تو انہوں نے ایسے ایسے منصوبے تخلیق کرنے شروع کردئیے کہ لوگ حیران ہوگئے۔ انہوں نے پاکستان کا سب سے بڑا جھنڈا بنوایا۔ سٹی ٹورازم کا سلسلہ شروع کیا۔ پاک فضائیہ کے تعاون سے ائیرسفاری کی جدید طرح نکالی۔ سیاحوں کے لئے ہیلی کاپٹر سروس کے اجرا کا خیال متعارف کرایا۔ ’ٹورسٹ پولیس‘ کے تصور کی آبیاری کرنے والے بھی یہی شخصیت تھی۔ انہیں انتھک آدمی کے طورپر جانا جاتا ہے۔ شعروادب کے لئے بے قرار، شعرپڑھتا، گپیں لگاتا، محفل کا آدمی، گم سم ہوگیا۔ چ±پ لگ گئی اور مدہم پڑتا گیا۔ اس کا زندگی بھر کا شریف خاندان کا تجربہ اس کی فرد شناسی، وفاداری کا منہ چڑانے لگا۔ قاتل کو گھر میں بلاکر اس کی آﺅ بھگت، اس کا سواگت، اس سے دوستی، بھائی بندی کی میٹھی باتیں، دستاروں کے تبادلے، راجپوت خون جوش مارگیا۔ ذلت کی یہ پگڑی کتنی ہی خوبصورت، اچھے سوت سے ب±نی ہو، پہننا گوارا نہیں۔ شہیدوں کے خون کو سرپر سجانے والے قاتل کی دستار باندھ لے؟؟ یہ وہ پے درپے چوٹیں تھیں، جس نے چوہدری عبدالغفور، اس کے گھر، دوستوں اور قوم قبیلے سب کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا۔ یہ وہ کھرا سچا تھا، جس کی بنا پر نوازشریف کا چلتا سکہ چوہدری عبدالغفور ’کھوٹے سکے‘ میں بدل گیا۔ اس کی وفاداری پر اسلام، پاکستان اورشہیدوں اور فوج سے محبت فتح پاگئی۔
یہی وہ دکھ تھے جس کا چوہدری عبدالغفور نے بقول میڈیا اپنی دھواں دھار پریس کانفرنس میں رونا رویا۔ جذبات سے ر±ندھی آواز میں ایسا محسوس ہورہا تھا کہ گویا ایک آتش فشاں ہے کہ پھٹنے کو ہے، لیکن شاید راستہ نہیں مل پارہا۔ ا±س نے جو باتیں کیں، ا±ن میں سب سے اول اسلام اور آقاکریم سے عشق ومحبت کا واضح اعلان تھا، اس میں اس کی ندامت اور پشیمانی کی جھلک بھی محسوس کی جاسکتی ہے کہ ا±س نے عشق رسول میں ممتاز ہوجانیوالے قادری کی مسلم لیگ (ن) دور میں پھانسی چڑھائے جانے پر الگ ہونے کا فیصلہ کرنے میں اتنی دیر کیوں کردی۔ یہ احساس ا±نکے خون کی روانی کو بے ترتیب بنارہاتھا۔ دوسرا اعلان بھارت کے خلاف تھا، جو کشمیریوں کو دن رات ذبح کررہا ہے، جس نے پاکستان کے وجود کو ا±سی طرح تسلیم نہیں کیاجس طرح ہم صیہونی ریاست کو ناجائز اور حرام سمجھتے ہیں، مودی کے ہاتھ مسلمانوں کے مقدس لہوسے رنگے ہیں۔ لہو پیتے اس درندہ کو دوستی کا لقب دینا، پاکستان کی توہین ہے، کسی پاکستانی محبت وطن کو یہ قبول نہیں۔ ہر پاکستانی کے دل میں یہ بات تیر کی طرح لگتی ہے۔ اس معاملے میں کسی جدت خیال تو کیا، ایسی بات کرنے والا بھی لوگوں کو زہر سے آگے لگتا ہے۔
تیسری بات ا±ن کی پاکستان کے اداروں سے متعلق ہے۔ کھ±ل کر بات کی جائے تو چوہدری عبدالغفور کا کہنا یہ تھا کہ ہم فوج کے خلاف بھارت اور مودی کے دوستوں کے یار نہیں بن سکتے۔ ایسی دوستی پر ہزار بار لعنت ہے جس کے نتیجے میں ہم کشمیریوں کے خون پر آنکھیں بند کرلیں، پاکستان کی فوج کو گالیاں دے کر اپنا قد اونچا بنانے والے ’پستوں‘ کو ہم اپنے سر پر تو کیا قریب بٹھانے کو بھی تیار نہیں۔ نوازشریف کے لئے جنرل مشرف کے ڈنڈے کھائے تھے، جان داﺅ پر لگادی تھی ، ٹکٹ نہ ملے پھر بھی قائد مان کر انتخاب جتا سکتے تھے، بغیر تنخواہ پاکستان کے لئے کام کرسکتے ہیں، کھڈے لائن لگ سکتے تھے، لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ کہیں اور ہم پاکستان کی فوج کے خلاف ’پشتینی‘ بن جائیں ۔شریف خاندان کا کوئی نہ کوئی فرد اس وقت بھی مشرف کو ملتاتھا۔ مشرف کو لایاکون تھا، چین آف کمانڈ کیوں توڑی گئی۔ اس کو یہ بھی قلق ہے کہ ماڈل ٹاﺅن میں فریاد کرتی عورت کو منہ میں گولی مار دی گئی۔ یہ د±کھ پا غفور ہجرت کی آپ بیتی کے سبب زیادہ شدت سے محسوس ہوتا تھا۔ اس کی صاف گوئی صاف بتارہی ہے کہ وہ جنس بازار نہیں، اسے واقعی دھچکالگا ہے۔ ورنہ وہ انتخاب میں کہیں سے کاغذات نامزدگی جمع کرادیتا۔ ورنہ پی ٹی آئی کے دروازے میں کنڈی تو پہلے بھی نہ تھی، اب انہوں نے دروازہ کیا، پردہ بھی اٹھادیا ہے، (ن) لیگ سے پی ٹی آئی کی جست تو اسے اقتدار سے ہمکنار کرہی سکتی تھی۔ لیکن وہ صرف لبیک لبیک یارسول اللہ لبیک کے نعرے لگارہا ہے۔ چوہدری غفور کو اساتذہ کے، لاکھوں شعرحفظ ہیں۔صدر ممنون حسین کی طرح قدیم اساتذہ کے اشعار کا بڑا ذخیرہ بھی اس کے حافظے میں محفوظ ہے جن کا استعمال موقع محل پر وہ خوب خوب کرتے ہیں۔ پریس کانفرنس میں بھی یہ ادبی رنگ نظرآیا۔ اپنا تمام مقدمہ انہوں نے شعری انداز میں بھی پیش کیا:
رات دِنے اسیں کوشش کیتی
بخت جیدے سنورن لئی
اوہی ب±کّل وچ ل±کائی پھردے پتھر ایس نوں مارن لئی
(ہم رات دن جن کی قسمت چمکانے کے لئے کام کرتے رہے، پتہ چلا کہ وہ اپنی چادر میں وطن کو پتھر مارنے کے لئے چپھائے ہوئے ہیں)
انہوں نے کہاکہ میں حقیقت بتاﺅں گا۔ حمزہ، شہباز شریف اور کریمنلز اور جرائم پیشہ افراد،لینڈ مافیا کا منظم گروہ ہیں ان کا اب سیاست سے کوئی تعلق نہیں رہا:
جن پتھروں کو ہم نے عطا کی تھیں دھڑکنیں
جب ا±ن کو زباں ملی تو ہمیں پہ برس پڑے
پرویزمشرف کے دائیں بائیں کھڑے ہونے والوں کو پارٹی میں شامل کرنے پر انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا:
میں پربتوں سے لڑتا رہا اور
کچھ لوگ گیلی مٹی کھود کرفرہاد بن گئے
یہ چوہدری عبدالغفور نہیں ’ پاکستان کے عوام کے دل کی آواز ہے۔ اسے ایک روایتی لیگی کی آواز یا ٹکٹ نہ ملنے کا سیاسی بدلہ سمجھنے کی غلطی نہ کریں۔ حقیقی پاکستان اور حقیقی پاکستانیت یہی ہے۔ جو یہ سمجھنے میں غلطی کرے گا، منہ کی کھائے گا اور اسے کوئی منہ لگانے والا نہ ہوگا۔

محمد اسلم خان

اپنا تبصرہ بھیجیں