کالاباغ ڈیم ضروری کیوں ؟ – روزنامہ نوائے وقت

پاکستان میں جہاں بیشتر شعبے انحطاط کا شکار ہیں وہیں آبی ڈیموں کے حوالے سے بھی صورتحال انتہائی مایوس کن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں جو پانی 1947ءمیں دستیاب تھا اب اس کا صرف پانچواں حصہ باقی رہ گیا ہے پانی کی اس قلت کے باعث ملک کا 2 کروڑ ایکڑ سے زائد رقبہ بنجر ہو چکا ہے۔ آبپاشی کے لئے پانی کی بڑھتی ہوئی قلت جہاں ملکی سطح پر سوچنے سمجھنے والے طبقات کے لئے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے وہیں یہ مسئلہ سنجیدہ عالمی حلقوں میں بھی غور و فکر کا باعث بنتا رہتا ہے۔ یہ وہی صورت حال ہے جس کی جانب کاشتکاروں کی تنظیمیں عرصہ دراز سے توجہ مبذول کراتی رہی ہیں تاہم اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانے میں جو غفلت برتی گئی اس کے اثرات پچھلے کئی برسوں کے دوران ایک طرف دریائی پانی کی کمی اور صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم پر تلخی کی صورت میں ظاہر ہوتے رہے ہیں۔ وطن عزیز کی زرعی پیداوار پر بھی اس کے منفی اثرات ظاہر ہوئے ہیں۔
گزشتہ روز سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ سابق چیئرمین واپڈا شمس الملک عدالت میں پیش ہوئے اور ڈیم کی تعمیر کے حق میں دلائل دیے۔اُنہوں نے بہترین معلومات شیئر کیں کہ دنیا میں 46 ہزار ڈیم تعمیر ہو چکے ہیں، چین میں 22 ہزار ڈیم بنائے گئے ہیں، چین ایک ڈیم سے 30 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرتا ہے، بھارت 4500 ڈیم تعمیر کر چکا ہے۔ کالاباغ ڈیم کی تعمیر نہ ہونے سے سالانہ 196 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان کی پانی کے بغیر بقا ممکن نہیں، اگر پاکستان ڈیم نہیں بنائے گا تو پانچ سال بعد پانی کی صورتحال کیا ہوگی، کوئٹہ میں زیر زمین پانی کی سطح خطر ناک حد تک گر چکی ہے، ڈیمز بننے سے چاروں صوبوں کو فائدہ ہوگا، سوچ رہا ہوں عدالتی کام روک کر پانی کے مسئلے پر سیمینار کروائیں، پاکستان کی بقا کے لیے پانی اشد ضروری ہے۔ چیف جسٹس نے کہا ہمیں ماہرین اور لوگوں کو اکٹھا کرنا پڑےگا، یہ ڈیم ہرصورت بنناہے، نہیں علم یہ ڈیم میری زندگی میں بنتا ہے یا نہیں، ڈیم کی تعمیر میں سب سے پہلے حصہ عدالت عظمیٰ ڈالے گی، قوم کو بچالیں یااپنے مفاد کو بچا لیں، بات کالا باغ ڈیم کی نہیں بات پاکستان ڈیم کی ہے، چاروں بھائیوں کو ڈیمزکی تعمیر کے لیے قربانی دینا ہوگی، کالا باغ ڈیم نہ بنا تو کے پی کے کی بیشتر زمین کو پانی نہیں مل سکے گا، ہمیں ہنگامی اور جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہو گا۔ چیف جسٹس نے کہا دس سال سیاسی حکومتیں رہی ہیں، ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے کچھ نہیں ہوا، سیاسی حکومتوں نے دس سال میں ڈیمز کی تعمیر کے لیے کیا کیا؟ ڈیم تو ہر حال میں بننا ہے، یہ بتائیں ڈیمز کن جگوں پر بنیں گے، جب تک مسئلے کا حل نہیں نکلتا میں نے جانے نہیں دینا، مجھے بندے بتائیں، ماہرین کے نام بتائیں، میں نے سب کو بلا کر اندر سے کنڈی لگا دینا ہے، ایک کمیٹی یا ٹیم تشکیل دینا پڑے گی، ڈیمز کے مسئلے پر عدالت عظمیٰ اپنی ٹیم تشکیل دے گی، ڈیموں کی تعمیر انا کی نذر ہوگئی۔
یہ وہ باتیں ہیں جو ایک محب وطن ہی کر سکتا ہے جسے قوم و ملت کے مسائل کا دکھ ہو وہی کر سکتا ہے۔ راقم کی 1996ءمیں شمس الملک کے ساتھ ملاقات ہوئی تھی جس میں انہوںنے یہی باتیں کی تھیں، میں نے اس پر کالم بھی لکھا تھا مگر خدا جانے ہم نے 22سال ضائع کر دیئے۔ ہم قومی مفاد کے لیے کچھ نہ کر سکے حالانکہ ہر شخص جانتا ہے کہ اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ توانائی کا ہے۔ یہاں چھوٹے چھوٹے مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دی گئی، حالانکہ ان مسائل کا سد باب کرنا کوئی بڑا کام نہیں ہے، مثلاً اس جگہ پر بسنے والے لوگوں کی رہائش کا مسئلہ، دنیا بھر میں بڑے ڈیمز کے قومی ثمرات کی وجہ سے مجوزہ مقامات پر رہنے والے افراد کو نہ صرف منتقل کیا گیا بلکہ انہیں اس کا پرکشش معاوضہ بھی دیا گیا، جس طرح آزاد کشمیر میں منگلا ڈیم کی تعمیر کیلئے پورا میرپور شہر ڈیم کی جھیل میں آگیا تھا۔ ایسے میں نہ صرف موجودہ میرپور شہر آباد کیا گیا بلکہ ڈیم میں آنے والے پورے میرپور شہر کی آبادی کو برطانیہ کا ویزہ دے کر ترقی کی شاہراہ پر آگے بڑھنے کا پورا موقع بھی دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج میر پور شہر کا کوئی بھی شخص کروڑپتی سے کم نہیں۔ اسی طرح ہری پور میں بنائے گئے تربیلا ڈیم کے متاثرین کو بھی معقول معاوضہ دیا گیا اور انہیں صوبہ پنجاب اور سندھ میں زمینیں بھی فراہم کی گئیں۔پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960 میں طے پائے جانے والے سندھ طاس معاہدے کے بعد سے اب تک جتنے بھی آپریشنل نہری منصوبے بنائے گئے ان سے بالخصوص سندھ، بلوچستان اور سرحد کو فائدہ پہنچا جبکہ پنجاب کے شہر ڈیرہ غازیخان کی تحصیل تونسہ کے کچھ حصہ کو چشمہ رائٹ بنک کینال کی ٹیل سے تھوڑا سا پانی دیا گیا۔ اسی طرح گزشتہ دور حکومت میں گریٹر تھل کینال کا منصوبہ بنایا گیا جو تاحال تکمیل کے مراحل میں ہے اور اسے بھی پانی کا حصول محال رہتا ہے۔ بھارت نے ماضی میں کالاباغ ڈیم کی مخالفت میں تمام تر حربے استعمال کئے۔ واپڈا کے سابق چیئرمین شمس الملک وہ شخصیت ہیں جنہیں کالا باغ ڈیم منصوبے کے بانیوں میں شمار کیا جا سکتا ہے، یقیناً وہ ایک سچے پاکستانی ہیں جنہیں پاکستان کا مفاد عزیز ہے لیکن بھارت امن کی آشا دراصل بغل میں چھری اور منہ میں رام رام بن چکی ہے اور دنیا کے سامنے امن کی آشا کی آڑ میں بھارتی عزائم سامنے آچکے ہیں کیونکہ ماضی میں پاکستان دشمنی میں بھارت نے کالا باغ کی مخالفت کرنے والوں پر اربوں روپے خرچ کرکے ہمارے ملک کی ترقی روکنے کے حربے استعمال کئے۔ شمس الملک کے بقول کالا باغ تو1996میں ہی بن جانا چاہئے تھا لیکن ہم متفق ہی نہ ہو سکے جبکہ بھارت ہمارے پانی پر درجنوں ڈیم بنا چکا ہے،کالا باغ ڈیم روشن پاکستان کی ضمانت بن سکتا ہے اور اسکی عدم تعمیر قوم کیلئے صدیوں کی سزا بن کر رہ گئی ہے۔ پاکستان میں پاور ویژن رکھنے والے جرات مند لیڈرموجود ہیں اور ہمارے موجودہ حکمرانوں میں سابق حکمرانوں سے زیادہ قوت دکھائی دیتی ہے اور انکے عزائم بھی بظاہر پختہ ہیں اس لئے وہ کم از کم کالاباغ ڈیم کی تعمیر ہی شروع کر دیں کیونکہ یہ کارنامہ انکے مستقبل کیلئے بھی زادہ راہ ثابت ہو سکتا ہے اور ساتھ ہی بھارت کو بھی ہم نفسیاتی شکست دے سکتے ہیں۔
ہمارے ادارے کیوں محبِ وطن انجینئر شمس الملک ایسے صاحبانِ علم و خبر کو پوری توانائی اور طاقت سے سامنے نہیں لا رہے جو اپنے علم اور تجربات کی اساس پر چیلنج کرتے ہوئے بار بار ثابت کر چکے ہیں کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے نہ تو خیبر پختونخوا کا کوئی شہر (مثال کے طور پر نوشہرہ) زیر آب آئیگا اور نہ ہی کالاباغ ڈیم میں سٹور کیے جانے والے پانی سے سندھ کی زراعت کو کوئی گزند پہنچے گا اور نہ ہی سندھ کے حصے کا پانی چرایا جا سکے گا۔ میرا خیال یہ ہے کہ اگر کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے سنجیدگی اور شائستگی سے قابلِ عمل کام کیا جائے تو بہت سی مشکلات بھی دور ہو سکتی ہیں اور کالاباغ ڈیم کے معاندین نے بوجوہ اپنے عوام کے ذہنوں میں جن شکوک و شبہات کو بٹھا دیا ہے، وہ بھی ختم ہو جائینگے۔ شرط مگر یہ ہے کہ مخالف اور موافق فریقین کو دیانتداری اور حب الوطنی کے جذبے سے محبِ وطن جماعتوں کو آگے آنا چاہئے۔
خوشی اس بات کی ہے کہ چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار صاحب نے صدقِ دل سے کالا باغ ڈیم کے بارے میں اپنے جذبات اور احساسات کا ذکر کیا ہے۔ وہ بجا کہتے ہیں کہ اگر ہم اپنے پانی کے تحفظ میں کوئی بڑا ڈیم نہ بنا سکے تو اپنی آنیوالی نسلوں کو کیا جواب دے سکیں گے؟ ا±نہوں نے ملک کو درپیش پانی کے سنگین مسائل کے پس منظر میں اِسے اوّلین ترجیح قرار دیا ہے۔ واپڈا کے موجودہ چیئرمین بھی یہ اعتراف کرتے ہیں کہ ”کالا باغ ڈیم تکنیکی اعتبار سے بن سکتا ہے اگر صوبوں کے تحفظات دور ہو جائیں تو لیکن حقیقت یہ ہے کہ پانی کے حوالے سے ہم جس عظیم بحران کی دہلیز پر کھڑے ہیں، اس کا تقاضا ہے کہ سارے فریق فوری مل بیٹھیں۔ قوم یہ بھی عرض کرتی ہے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے ٹیکنیکل معاملات کو واضح کرنے کے لیے غیرجانبدار اور عالمی شہرت یافتہ انجینئرز پاکستان بلائے جائیں جو خالصتاً فنی حقائق کی بنیاد پر کالاباغ ڈیم کے مخالفین کو مطمئن کر سکیں کہ یہ عظیم آبی بند ضرر رساں نہیں، مفید ثابت ہوگا۔ دنیا بھر کا اصول یہ ہے کہ قومی مفادات میں پیچیدگیاں کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جب کہ ہمارے ہاں معاملہ معکوس ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ اگر ہم سب آج اس عظیم مقصد کے لیے اکٹھے نہ ہو سکے تو پھر کبھی اکٹھے نہیں ہونگے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو (آمین)

محمد اکرم چوہدری

اپنا تبصرہ بھیجیں