سب راستے الیکشن کی طرف جاتے ہیں – روزنامہ نوائے وقت

الیکشن کی منزل سامنے ہے۔ راستہ بھی کلیئر ہے، تمام سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی مہم کو زور شور سے شروع کر چکی ہیں۔کہاں وہ وقت تھا کہ میاںنواز شریف کو نااہل کیا گیا تو ہا ہا کار مچ گئی کہ عبوری عرصے کے لئے مسلم لیگ ن حکومت نہیں بنا سکے گی، یہ بن گئی تو کہا جانے لگا کہ زیادہ دیر چل نہیں پائے گی۔ کبھی افواہیں آتی رہیں کہ کوئی ٹیکنو کریٹ حکومت آ رہی ہے جو صرف احتساب کرے گی اور احتساب بھی ایساکہ چشم فلک نے یہ منظر پہلے نہیں دیکھا ہو گا مگر نواز شریف کی جگہ لینے والے شاہد خاقان عباسی اور ہر صوبائی حکومت نے اپنی ٹرم مکمل کر لی تو ایک نیا شوشہ چھوڑا گیا کہ نگران حکومتوں پر اتفاق رائے نہیں ہو گا اور بالآخر یہ بھی مرحلہ بخیر و خوبی طے ہو گیا۔ اب تو صرف الیکشن کا عمل شروع ہونا تھاا ور یہ کام الیکشن کمیشن کی ذمے داری ہے، اس نے ہر قسم کا شیڈول جاری کر دیا جس پر عمل ہورہا ہے اور معاملات دھیرے دھیرے آگے کی طرف سرک رہے ہیں۔سیاسی جماعتیں ٹکٹ جاری کر چکی ہیں، اور کہیں کہیں سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے کام چلایا جا رہا ہے، بد قسمتی سے کسی بھی سیاسی پارٹی کے پاس ہر قومی یا صوبائی حلقے کے لئے امیدوار نہیں ہیں اور بعض جماعتوں کے پا س ایک حلقے میں درجنوں امیدوار ہیں مگر یہ ان جماعتوں کا داخلی مسئلہ ہے۔ وہ جانیں اور امید وار جانیں ، قوم کو الیکشن سے غرض ہے اور سیاسی جماعتوں کے منشور کاا نتظار ہے، یہ منشور اب تک آ جانے چاہئیں تھے،۔ ایک اچھی اور مثالی جمہوری صورت حال میں سیاسی جماعتوں کے منشور الیکشن کے اعلان سے بہت پہلے آ جاتے ہیں ، اس مقصد کے لئے ان کی خصوصی کمیٹیاں مستقل طور پر کام جاری رکھتی ہیں۔
بنیادی مسائل جو ووٹروں کو در پیش ہیں وہ ہیں بجلی کی کمیابی،مہنگائی، بے روز گاری،صحت کی سہولتوں کا فقدان،تعلیم کا بحران،مواصلات کے نظام میں گڑ بڑ۔ آج ساری سیاسی پارٹیوں نے انہی مسائل کا حل پیش کرنا ہے اور دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اس منشور پر عمل در آمد کے لئے ان کے پاس کوئی پروفیشنل اور پر خلوص ٹیم بھی ہے یا نہیں۔ ترقی یافتہ جمہوری ملکوں میں ہر سیاسی پارٹی کے منشور کے اہم نکات کبھی نہیں بدلتے۔ امریکہ میں ہر کسی کوعلم ہوتا ہے کہ ڈیمو کریٹ آئیں گے تو کیا پالیسی اختیار کریں گے ا ور ری پبلکن کو حکومت ملے گی تو کیا نقشہ سامنے آئے گا، یہ بس ہمارے ہاں ہے کہ ابھی جمہوری سیاسی نظام میں پختگی نہیں آ سکی مگر یہ عمل ترقی پذیر ہے اور انتخابات ہوتے رہیں تو سیا سی پارٹیاں اس کام میں بھی مہارت حاصل کر لیں گی۔
انتخابی مہم کے دوران ایک ضابطہ اخلاق پر بھی عمل کرنا ضرور ی ہے اس کے لئے ہر امیدوار کو چاہیئے کہ وہ اپنی بات کرے اور مخالف پر کیچڑ اچھالنے سے باز رہے ، ہر سیاسی پارٹی ا ور ان کے امیدو اروں کا کچا چٹھا پورے ملک کے عوام بخوبی جانتے ہیں، اس لئے بلیم گیم سے سیاسی ا ور ملکی ماحول کو نہ ہی پراگندہ کیا جائے تو بہتر ہو گا۔
ملک میں فرقہ ورانہ ا ور نسلی ، گروہی اور لسانی جھگڑے بھی ہمیشہ سے موجود رہے ہیں، بہتر ہو گا کہ الیکشن مہم میں ان جھگڑوں کو نہ اچھالا جائے تاکہ جھگڑے فساد کی نوبت نہ آئے۔سیاسی جماعتیں ساتھ ہی ساتھ پولنگ کی تیاری بھی جاری رکھیں، گھر گھر دستک دیں اور اپنے پروگرام کی بنیاد پر ووٹ مانگیں۔ ووٹروں کی پولنگ اسکیموں کا بھی جائزہ لیں اور لوگوں کو آگاہ کریں کہ انہیں کس پولنگ اسٹیشن اور کس پولنگ بوتھ پر اپنا ووٹ ڈالنا ہے۔ ووٹنگ پرچی پر نشان لگانے کی بھی تربیت دی جانی چاہئے تاکہ لاعلمی کی وجہ سے ووٹ ضائع نہ ہو جائے۔ ووٹروں کو اپیل بھی کریں کہ وہ پر امن ماحول میں ووٹ ڈالیں اور مخالفین سے تو تکار سے گریز کریں۔یہ اچھی بات ہے کہ پاکستان میں الیکشن کے دنوں میں بہت زور شور ہوتا ہے مگر یہی بات نقص امن کا باعث بھی بن جاتی ہے،امریکہ جیسے ملک میں میںنے سان فرانسسکو میںپولنگ کے دوران ایک راہ گیر سے پوچھا کہ کیا وہ اپنا ووٹ ڈال چکا ہے تو اس نے الیکشن ہی سے لاعلمی کاا ظہار کیا۔ واشنگٹن میں ایک مربع فٹ کے اشتہار بجلی کے کھمبوں پر چسپاں نظر آئے اور وہ بھی کہیں کہیں۔ جبکہ ہمارے ہاں گھروں اور سرکاری عمارتوں کی دیواریں رنگ برنگے پوسٹروں سے ا ٹی ہوتی ہیں، کپڑے کے بینر الگ بہار دکھلاتے ہیں اور قد آدم تصاویر بھی ہر چوک میں کھمبیوں کی طرح اگی نظر آتی ہیں۔ ٹی وی چینلز پر الگ اشتہارات چل رہے ہیں، ہم نے الیکشن کو اسقدر مہنگا بنا دیا ہے کہ غریب تو کیا ، متوسط طبقے کا کوئی فرد بھی الیکشن میںکودنے کی جرات ہی نہیں کرتا۔ہمارا الیکشن کروڑوں اور اربوں والوں کا کھیل ہے ۔اس سلسلے میں ہمیں ہنگامی بنیاوں پر قانون سازی کر کے اس عمل کو سستا بنانا چاہیئے۔میںنے کئی مرتبہ لکھا ہے کہ ہمارے ہمسائے بھارت میں الیکشن کے دوران عدلیہ کے رٹ کے اختیارات سلب کر لئے جاتے ہیں، ہم بھی ایک اچھے کام کی پیروی کر لیں تو اس میں کوئی ہرج کی بات نہیں۔ اس سے ہماری الیکشن مہم بلاتعطل جاری رہ سکتی ہے۔ اور کوئی امیدوار پری الیکشن رگنگ کا شور نہیںمچا سکتا۔
جنرل مشرف کے دور کے بعد یہ تیسراا لیکشن ہے جو عوام کو اپنی تقدیر کا خود فیصلہ کرنے کاموقع فراہم کر رہا ہے ، عوام کا فرض ہے کہ وہ اپنی تقدیر خود لکھ رہے ہیں تو اسے سنہری حروف سے لکھیں۔ اور ملک کا نام روشن کریں اور اسے ترقی کی راہ پر گامزن کرنے والی پارٹی کے حوالے کریں۔

اسد اللہ غالب

اپنا تبصرہ بھیجیں