بختاور بھٹو زرداری کی ایک غیرسیاسی کامیابی – روزنامہ نوائے وقت

آصف زرداری اور بے نظیر بھٹو کی بیٹی بختاور نے ایک زبردست بات کی ہے اور بات غیرسیاسی ہے۔
الیکشن میں ہم صرف الیکشن لڑنے والوں کے لیے بات کرتے ہیں۔ پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے بہت قابل غور بات کی ہے کہ لوگ صرف امیدواران کے لیے سمجھتے ہیں کہ ان کا امتحان ہے مگر اصل میں یہ ووٹرز کا امتحان ہوتا ہے۔ یہ ملک لوٹنے اور بچانے والوں کے درمیان ایک جنگ ہوتی ہے۔ الیکشن ووٹرز کا امتحان ہوتا ہے۔ جب نواز شریف نے کہا ووٹ کو عزت دو تو اس نے عوام کے اصرار پر بھی یہ نہیں کہا کہ ووٹرز کو عزت دو۔
جبکہ چودھری صاحب نے کہا کہ ووٹر الیکشن میں سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ اس کی رائے پر ملک کی قسمت کا فیصلہ ہوتا ہے۔
دیکھیں کہ چودھری صاحب کا یہ جملہ کتنا معنی آفریں ہے کہ یہ ملک کو بچانے والوں اور ملک لوٹنے والوں کے درمیان ایک جنگ ہوتی ہے۔ شریف فیملی اپنی ساری دولت لندن میں لے جا چکی ہے۔ وہ خود بھی وہاں پناہ لیں گے۔ میں تو گجرات اور چکوال سے الیکشن لڑ رہا ہوں۔ کامیابی ہمارا مقدر ہے۔ عدلیہ کا احترام اور فوج سے محبت ہمارا منشور ہے۔ ہماری زندگی اس ملک میں ہے۔ ہمارا مستقبل اس ملک کے ساتھ ہے۔ ہم دوسروں کی طرح وقفے وقفے کے بعد لندن نہیں بھاگ جاتے۔
کلثوم نواز مجھ سے اکثر پوچھتیں کہ تم نواز شریف کے خلاف کیوں ہو؟ میں خاموش رہتا تو وہ بھی خاموش ہو جاتیں۔ اللہ انہیں صحت کاملہ عطا فرمائے اور لمبی عمر دے۔ مسلم لیگ میں ایک شخص چودھری نثار ہے۔ جب نواز شریف نے شاہد خاقان عباسی کو اپنے بعد وزیراعظم بنایا تو میں نے سوچا کہ اب نواز شریف کی حکومت کا اللہ حافظ ہے۔ البتہ نواز شریف کا جانشین تو خاقان عباسی ہی ہے؟
بڑی مدت کے بعد بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری کی بیٹی بختاور بھٹو زرداری کا بیان اخبارات میں شائع ہوا ہے۔ یہ بات بھی غیرسیاسی ہے۔ بختاور نے بے نظیر بھٹو کی زندگی پر بننے والی فلم کی ٹیم کے خلاف ایکشن لینے کا اعلان کیا ہے۔ مہوش حیات نے اس فلم میں کام کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔ عام طور پر اور بالخصوص سوشل میڈیا پر کہا گیا کہ مہوش حیات بے نظیر بھٹو پر کام کرنے کے لیے سب سے موزوں عورت ہے مگر بے نظیر بھٹو کے لیے اس فلم کے حوالے سے بہت سی باتوں پر اعتراض ہو سکتا ہے۔ بختاور نے اس معاملے میں سخت ایکشن لیا۔ بختاور نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کے لیے فلم کے حوالے سے ان کے بچوں اور وارثوں سے رضامندی نہیں لی گئی۔ یہ ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ اس بات کے فوراً بعد مہوش حیات نے کہا کہ ابھی یہ منصوبہ ابتدائی مراحل میں ہے اور ان کے خاندان اور وارثوں سے اور بالخصوص آپ کے ساتھ رابطہ کیا جائے گا۔ مہوش حیات نے یہ بھی کہا کہ بے نظیر بھٹو میری آئیڈیل تھیں۔ میں ان کے لیے تحقیق کا کام بھی کر رہی ہوں اور میں آپ سے ملنا چاہوں گی کیونکہ کچھ باتیں جو آپ جانتی ہیں کوئی اور نہیں جانتا ہو گا۔
میں بہت خوش ہوا کہ بختاور ایسا کام کر رہی ہے جو تاریخ میں زندہ رہے گا۔ البتہ میری خواہش ہے کہ اس سلسلے میں وہ بختاور کی مدد کریں اور اس کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔ آصفہ بہت قابل لڑکی ہے۔ وہ عملی سیاست میں بھی آنا چاہتی ہے۔ وہ خاصی ایکٹو ہے اور اپنے والد اور زرداری صاحب کے بھی زیادہ قریب ہے۔

ڈاکٹر اجمل نیازی

اپنا تبصرہ بھیجیں