آبی وسائل کی تعمیر اور سپریم کورٹ کے لائق تحسین اقدامات (نئی بات)

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ انہوں نے پانی کی قلت کے خاتمے کا تہیہ کر لیا‘ ڈیمز بنانے میں اب سپریم کورٹ کردارا دا کرے گی۔ جوڑنے بیٹھے ہیں توڑنے نہیں۔ آپ سب خطرہ محسوس نہ کریں کالا باغ ڈیم پر بات نہیں کر رہے۔ ایسا حکم نہیں دیں گے جس سے کوئی فریق متاثر ہو۔ چار بھائی متفق نہیں تو متبادل حل نکالیں گے۔کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ عید کے بعد سپریم کورٹ کا لاء اینڈ جسٹس ڈیپارٹمنٹ سیمینار کروائے گا۔ بیٹھ کر ایس او پیز بنائیں گے‘ سفارشات دی جائیں ہم پارلیمنٹ سے سفارش کریں گے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ نئی نسل کو اچھا مستقبل دے کر جائیں گے۔
بھارت پاکستان کا ایسا ہمسایہ ہے کہ جس نے پاکستان کے وجود کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ ہمیں نقصانات سے دوچارکرنے کی کوششیں کرتا رہتا ہے۔ اس کیلئے بلوچستان، سندھ اورخیبر پی کے سمیت ملک بھر کے مختلف علاقوں میں تخریب کاری و دہشت گردی کو پروان چڑھایا گیا۔ صوبائیت ، علاقائیت اور وطن پرستی کی تحریکیں کھڑی کی گئیں اوراس ملک کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں پر حملوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔دہشت گرد بھارت یہاں دہشت گردی کی آگ بھڑکانے کیلئے اربوں روپے خرچ کر رہا ہے۔اس کی پاکستان دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ اس کی یہی وہ ذہنیت تھی جس کی بناپر قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں آزادی کی تحریک چلی اور اللہ تعالیٰ نے آزادی کی نعمت عطا کی ۔قیام پاکستان کے وقت حیدر آباد، جوناگڑھ، مناوادر جیسی مسلم ریاستوں کی طرح کشمیر ی بھی پاکستان سے الحاق چاہتے تھے لیکن جس طرح بھارت نے دوسری مسلم اکثریتی ریاستوں پر قبضہ کیا اسی طرح کشمیر میں بھی فوجیں داخل کر کے لاکھوں مسلمانوں کو شہید کیا اور پھر وہاں قابض ہو کر بیٹھ گیا۔ اس کے بعد سے آج تک نہتے کشمیریوں کی قتل و غارت گری، ان کی املاک جلائے جانے اوران کی عزتوں و حقوق کی پامالی کا سلسلہ جاری ہے۔ بھارت سرکار آٹھ لاکھ فوج کے ذریعہ جہاں کشمیر میں ظلم و دہشت گردی کی نت نئی داستانیں رقم کر رہی ہے وہیں اس نے پاکستان کی طرف آنے والے دریاؤں اور ندی نالوں پرڈیم بنانے کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے۔ وہ سرنگوں کے ذریعہ ہمارے پانیوں کا رخ موڑ کر اپنے راجھستان جیسے صحرا آباد اور ہمارے لہلہاتے کھیت کھلیان برباد کر رہا ہے۔
بھارت نے ایوب خاں کے دور میں کئے گئے سندھ طاس معاہدہ میں پائی جانے والی کمزوریوں سے بہت زیادہ فائدے اٹھائے ہیں۔ معاہدہ میں یہ بات لکھی گئی ہے کہ بھارت بہتے ہوئے پانی کو اپنے استعمال میں لاکر اس سے بجلی پیدا اور باغبانی کیلئے استعمال کرسکتا ہے تاہم اسے پانی روکنے اور رخ موڑنے کا اختیار نہیں ہو گا ۔1960کے معاہدہ کے نتیجہ میں سندھ ، جہلم اور چناب کا زرعی پانی پاکستان کے حصے میں آیا جبکہ ستلج، راوی اور بیاس کا زرعی پانی انڈیا کے پاس چلا گیا لیکن صورتحال یہ ہے کہ انڈیا پاکستان کا پانی مکمل طور پر بند کرنے کی منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہے۔ جس طرح ہندوانتہاپسند تنظیم بی جے پی کے لیڈر اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے دھمکیاں دی جاتی رہی ہیں کہ ہم پاکستان کی طرف آنے والے پانی کی ایک ایک بوند روکیں گے‘ اس سے ہندوبنئے کے پاکستان کیخلاف مذموم عزائم کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ انڈیا کو معلوم ہے کہ ایٹمی قوت پاکستان سے اب میدان میں مقابلہ کرنا آسان نہیں ہے اس لئے وہ بغیر جنگ لڑے پاکستان کو فتح کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے ۔نائن الیون کے بعدعالمی حالات کے تناظر میں انڈیا نے اس سلسلہ میں بہت فائدے اٹھائے۔ بھارت کی جانب سے طویل عرصہ سے پاکستانی دریاؤں پر ڈیم بنائے جارہے ہیں مگر ہماری حکومتیں انڈیا سے یکطرفہ دوستی پروان چڑھانے اور بیرونی دباؤ پر خاموش رہیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمیں اب ہر سال سیلاب کی تباہی بھگتنا پڑ رہی ہے۔مرد مجاہد پروفیسر حافظ محمد سعید گزشتہ تین عشروں سے بھارتی آبی دہشت گردی اور پاکستان میں ڈیموں کی تعمیر کے مسئلہ پر توجہ دلا رہے ہیں۔اس سلسلہ میں انہوں نے پاکستان واٹر موومنٹ کے نام سے ایک بڑا فورم تشکیل دیا اور ملک گیر سطح پر زبردست تحریک کھڑی کی گئی تاہم ان کی باتوں پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ حکمرانوں کی اسی غفلت کا نتیجہ ہے کہ پاکستان اس وقت پانی کی شدید قلت کا شکار ہو چکا ہے۔ انڈس واٹر ٹریٹی میں واضح طور پر درج ہے کہ بھارت جہلم، چناب اور سندھ جن بھارتی علاقوں سے گزرتا ہے وہاں اسے پینے کیلئے، ماحولیات کیلئے اور آبی حیات کے لئے پانی لینے اور استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ جب اپنے لئے اسی معاہدے کے تحت یہ تینوں قسم کا پانی جائز قرار دیتا ہے جو پاکستان کے حصے میں آنے والے دریاؤں سے لیا جا رہا ہے تو ہمارے غیر زرعی استعمال کیلئے ستلج بیاس اور راوی سے ماحولیات، آبی حیات اور پینے کا پانی کیوں بند کر رہا ہے؟۔ 1970 کے انٹرنیشنل واٹر معاہدے کے تحت دریا کے زیریں حصے میں خواہ وہ کسی ملک کے حصے میں ہو 100فیصد پانی بند نہیں کیا جا سکتا۔اس لئے جو سہولت بھارت سرکار جہلم، ستلج اور بیراج سے حاصل کر رہی ہے وہی سہولت بیاس اور راوی میں پانی چھوڑ کر پاکستانیوں کو دی جانی چاہیے۔یہ بہت اہم مسئلہ ہے جس پر بھرپور آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے پانی کی کمی کے مسئلہ کا نوٹس لیکرڈیم بنانے کے جس مضبوط عزم کا اظہار کیا ہے یہ انتہائی خوش آئند ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی سیاستدانوں اور حکمرانوں نے اس سلسلہ میں کوئی کردار ادا نہیں کیا بلکہ محض اپنے ذاتی مفادات کیلئے انڈیا کی آبی دہشت گردی پر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے رکھی جس کا خمیازہ ہم آج بھگت رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے درست کہا ہے کہ پاکستان میں ڈیموں کی تعمیر بہت ضروری ہے۔ ہر سال بہت بڑی مقدار میں پانی کو ہم استعمال میں نہیں لاتے اوروہ سیلاب کی شکل میں تباہی مچاتا ہوا سمندر میں جاگرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈیموں کی تعمیر کے مسئلہ پر پورے ملک میں بھرپور تحریک کھڑی کی جائے۔ انڈیا ہمارے پانیوں پر تو ڈیم بنا رہا ہے لیکن ہم کوئی ڈیم بنانا چاہتے ہیں تو اسے روکنے کیلئے بے پناہ سرمایہ خرچ کیاجاتا ہے اور پھر بین الاقوامی سطح پر یہ پروپیگنڈا بھی کیا جاتا ہے کہ پاکستان کو تو پانی کی ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ وہ ڈیم نہیں بناتا اور ہر سال کثیر مقدار میں پانی سمندر میں پھینک کر ضائع کر دیا جاتا ہے۔ہمارا ستلج مکمل خشک ہو چکا ہے۔ راوی اور بیاس میں بھی پانی مکمل طور پر بند ہے۔ پاکستان بننے سے پہلے نواب آف بہاولپور نے ستلج ویلی پروجیکٹ کے تحت چولستان میں کچھ نہریں بنائیں، مگر ستلج کے مکمل بند ہونے کی وجہ سے وہ نہریں بھی تباہ ہوگئی ہیں اور بہاولپور،رحیم یار خان ،بہاولنگر ،پاکپتن،ساہیوال اور لودھراں متاثر ہوئے ہیں، نواب آف بہاولپور نے کہا تھاکہ چولستان اور ریاست کے باقی اضلاع پاکستان کی فوڈ باسکٹ ہوگی مگر پانی نہ پہنچنے کی وجہ سے لاکھوں ایکڑ رقبہ بنجر پڑا ہے۔ماضی میں بیکانیر ریاست اور بہاولپور کے درمیان بھی پانی کے مسئلہ پر معاہدہ ہواتھا۔ انڈیا نے ستلج بند کیا تو ساری نہروں کا رخ راجستھان کی طرف موڑ کر اسے سرسبز وشاداب بنا دیا گیا جبکہ ہماراچولستان مکمل طور پر بنجر ہوچکا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ بین الاقوامی عدالتوں میں بھی مقدمات دائر کئے جائیں اور ہر ممکن طریقہ سے بھارتی آبی دہشت گردی کے خلاف آواز بلند کی جائے تاکہ اپنی آنے والی نسلوں کی زندگیاں محفوظ بنائی جاسکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں