محب وطن کون، مشرف یا جناب چیف جسٹس….(نئی بات)

مکمل آمر وقت ”سید مشرف “ نے اس چیز کا احساس کیے بغیر کہ ان کے نانا ، جن کے طفیل اس حسب، اور نسب کی ابتداءہوئی، اور اہل بیت کے حوالے سے پوری دنیا کے مسلمان فرمان نبی ﷺ کے مطابق ”سیدوں“ کا احترام کرتے ہیں۔ مگر خودداری، انا، اورامت کے سردار کی اولاد، جن کی ابتدا جگر گوشہ رسول حضرت بی بی فاطمة الزہراؓ کے خاندان سے ہوئی، اس سرداری اور افتخاری کے سبب، سید زکوٰة نہیں لے سکتے، کیونکہ ان پر خود آقائے دوجہاں نے پابندی لگادی ہے، سید خواہ کتنا ہی غریب ، نادار، حتیٰ کہ لاچار ہو، مگر نہ تو وہ زکوٰة لے سکتا ہے، اور نہ ہی اسے زکوٰة دی جاسکتی ہے۔
مشرف نے اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں، وہ اقتدار جو اس کے خواب اور خیال میں ابھی تک بستے ہیں، اور جس کی خاطر وہ دوبارہ بے حال متحدہ کو فعال کرنے کے لیے الطاف حسین کا دست راست بن کر اس کے ہاتھ مضبوط کرنے انتخابات سے پہلے اپنے وطن ، خیراس کا اصل وطن تو لال حویلی ہے، ایک پنڈی والی لال حویلی ہے، جس کا باسی اس کا وزیراطلاعات تھا، بلکہ اس کا گھر کا فرد تھا، اور جنرل مشرف کی والدہ محترمہ کا بھی خدمت گزار تھا گو کسی کے والدین، اور اپنے والدین کی عزت واحترام ہرمسلمان پر لازم ہے، مگر اگر اس کے پیچھے طوالت حاکمیت کی خودغرضی پنہاں ہو،تو مخلصانہ پن عارضی اور ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے، اور ہوس کی بنیادوں پر کھڑی البروج کی عمارت منہدم ہوکر زمیں بوس ہونے میں ایک لمحہ لگاتی ہے۔
دبئی میں قدم بوسی، تو ہو جاتی ہوگی، مگر پاکستان میں مشرف کی آمد پر سوائے ایک متنازعہ جماعت کے، دوسری کسی بھی جماعت کے سیاستدان پذیرائی کے بجائے پہلوتہی کرنے کو ترجیح دیں گے، تاکہ ان کے ووٹ بینک پہ منفی اثر نہ پڑ جائے، پروین شاکر بے چاری مرحومہ ہوگئیں، اورخوشبو کی طرح پذیرائی کا باب بھی بند ہوگیا۔ اب تو مسلسل رہنے والے سابقہ وزیر اطلاعات سے، ریحام خان کی باتوں پہ تبصرہ کرنے کو کہا، تو انہوں نے اخلاقی بلندیوں کو چھوتے ہوئے کہا کہ بکواس کرتی ہے ….میں یہ باتیں اس لیے کررہا ہوں، کہ کالا باغ ڈیم بنانے والے ”ثالث“ جناب ثاقب نثار کو ہمارے سیاستدانوں کے اخلاقی معیار کا پتہ ہو، ٹانگیں توڑنے طمانچے مارنے ایک دوسرے کا گریبان پکڑنا، منہ پہ کالک پھینک دینا، جوتا دے مارنا، کرائے کے کارندوں سے پھینٹی لگوادینا، اغوا کرالینا،بلکہ ”سچ تو یہ ہے“ کہ مخالفین کو پھنسانے کے لیے اپنے کسی مزارعے یا ملازم کو قتل کرکے، اور گواہان کو بھی پیش کرکے مقدمے درج کرادیئے جاتے ہیں مسئلہ کالا باغ ڈیم میں بھی عدالتی معاون اعتزاز احسن کو مقرر کیاگیا ہے۔ بھارت سالانہ چارارب ڈالر، ڈیم کی مخالفت کرنے پر بااثر پاکستانیوں میں تقسیم کرتا ہے، اور اگر اس نے ڈیم کی مخالفت پر اعتزاز احسن کو ”فیس“ ادا کردی ہو، تو پھر آپ کی ثالثی اور عدالتی ساکھ، تو داﺅ پر لگ جائے گی۔ اس حقیقت کو مدنظر رکھنا انتہائی ضروری ہے، کہ کالا باغ ڈیم آج سے نہیں، بلکہ پاکستان بننے کے تقریباً 5سال بعد ہی زیرالتوا ہے، اس وقت سے کالا باغ ڈیم بنانے پر غوروخوض شروع ہے، جو تاحال جاری ہے، بلکہ آپ کی عدالت تک آپہنچا ہے، جنرل ریٹائرڈ مشرف کا جب اقتدار ڈولنے لگا، تو انہوں نے آخری وقتوں میں ایک تقریر لکھوائی تھی، اور قوم سے انہوں نے ٹیلی ویژن پر خطاب کرنے کاحتمی فیصلہ بھی کرلیا تھا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کالا باغ ڈیم بنانے کا اعلان کرنا تھا ….مگر عین وقت پر انہوں نے تقریر روک دی، اور پیپلزپارٹی سے این آر او کا جوڑ توڑ شروع کردیا، میں یہ بات پوری ذمہ داری اور وثوق سے لکھ رہا ہوں ،یقین نہ آئے، تو جس کو آپ نے انتخاب لڑنے کی، اور پاکستان آنے کی دعوت بھی دے ڈالی ہے، عدالت میں بلالیں، اور ان سے پوچھیں، کہ کالا باغ ڈیم کی تقریر لکھ لینے کے بعد آپ نے تقریر کیوں نہیں کی اور ڈیم کیوں نہیں بنایا ؟
اس کے علاوہ ایک اور ضروری گواہ، اور انتہائی محب وطن شخصیت جن کا تعلق ہماری صحافتی برادری سے ہے، جس طرح جناب حسن عسکری رضوی کا ہے، گو اس میں ایاز میر، اوریا مقبول جان کا نام بھی گونجتا رہا۔ مگر قرعہ اور فال حسن عسکری صاحب کی نکلی ….حلف اٹھانے سے لے کر اب تک، اپنے سنجیدہ متین اور مدبر شخصیت کی مسکراہٹیں، جو ناظرین نے پہلی دفعہ دیکھی ہیں، حتیٰ کہ قہقہے کی حد چھوتے ہوئے انداز میری سمجھ میں نہیں آتے، کہ وہ قوم کے انتخاب پہ مسکرا رہے ہوتے ہیں، یا پھر اللہ تعالیٰ کا انعام سمجھ کر کھکھلا اٹھتے ہیں۔ بہرحال پنجاب والوں کو کنوارا اور ”نواں نکور“ وزیراعلیٰ مبارک ہو شادی نہ کرنا کوئی مستحسن فیصلہ نہیں، کیونکہ ہمارے نبی محترم ﷺ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے بھی کئی شادیاں کی تھیں، کیونکہ مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت کی نہیں، محمد عربی کی شریعت پہ چلتے ہیں، اور انہیں پہ مرتے ہیں ۔بہرحال میں بات کررہا تھا، داعی کالا باغ ڈیم، پہلے ن لیگ سے سیاست کرنے والی، اور پھر مسلسل ایک ہی جماعت ق لیگ میں رہنے والی، بشریٰ رحمن صاحبہ کی، وہ قومی اسمبلی میں ہمیشہ کالا باغ ڈیم کے حق میں تقریر کرتی تھیں اور بیک وقت ،پیپلزپارٹی، اور اے این پی والوں کو للکارتی تھیں، انہوں نے ایک دفعہ ایک چینل پر میرے ساتھ کالا باغ ڈیم کے حق میں بہت ہی مو¿ثر اور مضبوط دلائل دیئے تھے، وہ اکثر قومی اسمبلی میں فہرست والا کاغذ بھی لہرا دیتی تھیں، جس پر پاکستان کے سیاست دانوں کے نام درج تھے، جو بھارت سے باقاعدہ، کالا باغ ڈیم کے خلاف بولنے کا معاوضہ لیتے تھے آپ خود اندازہ لگائیں، چار کروڑ ارب سالانہ خطیر رقم، معمولی بات نہیں چیف جسٹس صاحب، آپ ملک کے صدر نہیں، آپ ملک کے آمر بھی نہیں، ظاہر ہے آپ کی قانونی حدود بھی متعین ہیں۔
آپ کے دل میںحب الوطنی کا درد، سب کو نظر آرہا ہے، کالا باغ ڈیم پہ اگر آپ ریفرنڈم کرالیں، تو بیس کروڑ عوام آپ کے ساتھ مل کر کالا باغ ڈیم بنانے کے لیے ووٹ دیں گے …. مگر کبھی آپ نے یہ بھی سوچا، کہ جس آمر کے ہاتھ میں، ڈنڈا بھی تھا، اختیار بھی تھا، اور جس کے دور میں منی لانڈرنگ کا اربوں روپیہ کراچی سے لندن جاتا رہا …. اس نے کالا باغ ڈیم کیوں نہیں بنایا؟ انشاءاللہ اگلی قسط میں ، میں بتاﺅں گا، کہ بابے کون ہوتے ہیں، اور لفافے کون لیتے ہیں؟ ہمارے ملک میںبھی احمد پرویز نامی ایک شخص نے دین میں تحریف کرنے کی کوشش کی تھی۔ میں کالا باغ ڈیم بنانے کے حق میں صرف ایک دلیل دیتا ہوں کہ جس چیز کی مخالفت، بھارت کرے، وہ ہمیشہ پاکستان کے حق میں بہتر ہوتی ہے، آپ نے جو فیصلہ کرنا ہے، کھل کر کریں، ورنہ آپ کو آبپاشی کے نام نہاد ماہر بہکادیں گے کہ اربوں روپے خرچ کرنے کے بجائے، پہلے پانی کی ترسیل کا نظام بہتر بنائیں کیونکہ بھارت کہتا ہے، کہ پاکستانیوں کو تمیز ہی نہیں ہے، وہ سالانہ اربوں روپے کا پانی سمندر میں پھینک کر ضائع کردیتے ہیں، اور ویسے آپس کی بات ہے کہ بھارت نے کشنا ڈیم، ایک دن میں تو نہیں بنایا ؟ اس وقت ، میں اور آپ کہاں تھے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں