پاکستان کی کہانی مرشد صحافت کی زبانی (نوائے وقت)

”جے بھرا دی پالیسی جاری نہ رکھی تے توں جنا نہیں ہوئیں گا“ گورنر مغربی پاکستان نواب آف کالا باغ امیر محمد خان ‘ حمید نظامی صاحب کی فاتحہ خوانی کے بعد کہہ رہے تھے کہ اگر تم نے اپنے بڑے بھائی کی (فوجی حکومت مخالف) پالیسی کو جاری نہ رکھا تو ’مرد میدان‘ نہیں ہو گے نظامی صاحب بتایا کرتے تھے یہ سن کر حیران رہ گیا اور نواب صاحب سے استفسار کیا ”آپ جنرل ایوب خان کے گورنر ہیں، صدر ایوب کے خلاف پالیسی پر ڈٹ جانے کہہ رہے ہیں؟“ جس پر نواب آف کالا باغ نے کہا کہ ”وہ الگ بات ہے۔ صدر ایوب کہے گا کہ نوائے وقت بند کردوں گا۔ میرے لئے اوپر خدا اور نیچے ایوب خان ہے“۔ جس پر میں نے کہا کہ آپ مجھے ہمیشہ ”جنا“ پائیں گے“۔ شاید نواب آف کالا باغ کی اسی بات نے ہمیشہ ”جنا“ ہی رکھا، اس طرح جناب مجید نظامی نے اپنے تا دم آخر مرد میدان بنے رہنے کی اصل وجہ بھی بڑی سادگی سے بتادی تھی۔ جنت مکانی جناب مجید نظامی اپنی ساری زندگی کے طویل اور پر شکوہ سفر کو دو جملوں میں نمٹا دیا کرتے تھے…. ”میری ساری زندگی اور دورِ ادارت فوجی اور غیرفوجی آمروں سے لڑتے بھڑتے گذر گئی“ مرحوم محمد خان جونیجو کا مختصر دور حکومت ٹھنڈی ہوا کا جھونکا تھا جب حقیقی جمہوریت بحال ہوئی تھی۔ درحقیت یہ پاکستان کے 70 برس کی داستان ہے۔ المناک کہانی جو جناب مجید نظامی پر بھی گذری تھی اور انہوں نے آنے والی نسلوں کے لئے بیان کر دی۔ مکرم و محترم جناب مجید نظامی اس کالم نگار کے محسن تھے۔ ان کی یادوں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوتا ہے توختم ہونے میں نہیں آتا۔جرنیلوں سے جناب نظامی کی دل لگی دور مشرف تک جاری رہی جو نواب آف کالاباغ کی” جنا” مرد بننے سے شروع ہوئی تھی۔جب ایوب کا مارشل لا پوری آب و تاب اور قوت کے ساتھ جلوہ گر تھا، جناب مجید نظامی نے اپنے قلم کو حق سچ اور جمہوریت کاعلم بنا لیا انہوں نے ایوب خان کے خلاف ساری قوم کومحترمہ فاطمہ جناحؒ کے گرد اکٹھا کیا یہ نظامی صاحب تھے جنہوں نے محترمہ فاطمہ جناح کو مادر ملت کا خطاب دیا،ان کی انتخابی مہم کے لئے روزنامہ نوائے وقت کو وقف کر دیاتھا۔
جنرل یحییٰ بے 4 مدیران پر مقدمہ بنایا اور ان کو معافی مانگنے کی شرط مولانا کوثر نیازی کی سفارش پر مقدمہ واپس لینے پر آمادہ ہوا یہ مجید نظامی تھے جنہوں نے جنرل یحییٰ سے استفسار کیامعافی کس بات کی؟ یحییٰ نے کہا کہ اگر معافی نہیں مانگتے ہو تو پھر مقدمہ لڑو۔ نظامی صاحب نے کا کہ مقدمہ کہاں لڑیں۔ یحییٰ نے کڑوے لہجے میں کہاکہ فوجی عدالت میں، اس پر نظامی صاحب نے تاریخی جملے بولے: ”فوجیوں کو کیا پتہ کہ اخبار کیا ہوتا ہے اور عدالت کا فوج سے کیا تعلق ہے، نہ مارشل لاکو لا کہا جاسکتا ہے اور نہ فوجی عدالت کو عدالت۔“ یہ تھے ہمارے نظامی صاحب جو نہ گھبرائے نہ خاموش ہوئے۔جنرل مشرف سے بھری مجلس میں کہہ دیا “ آپ نے امریکی وزیر خارجہ کے ایک فون پرسرنڈر کرکے قوم کا سر شرمندگی سے جھکا دیا۔ مشرف نے پوچھا اگر آپ میری جگہ ہوتے تو کیا کرتے؟ نظامی صاحب نے برجستہ جواب دیا کہ میں آپ کی جگہ کیوں ہوتا؟
یہ بھی فرمایا اگر آپ بھی اپنی جگہ پر ہوتے تو ملک و قوم کی ایسی رسوائی نہ ہوتی، فوج کا کام ملکی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے ،آپ کی جگہ چھاو¿نیاں ہیں سرحدیں ہیں ایوان صدر نہیں۔ جب محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو امریکی دباو¿ پر قید کیا گیا توجناب مجید نظامی نے اپنے میزائل مین کو نہ صرف آزاد کرانے کی کوشش کی بلکہ ان کے ایام اسیری سے قوم کو پل پل آگاہ رکھا جو عہدآمریت کے منہ پر کھلا طمانچہ تھا۔ اسی دور میں جب نوازشریف بھارت کے ایٹمی دھماکوں پر تذبذب کا شکار تھے تو اس مرد جری نے نوازشریف کو برملا کہا کہ ”میاں صاحب! آپ دھماکہ کریں ورنہ قوم آپ کا دھماکہ کر دے گی۔
80ءکی دہائی کے آخری سالوں میں صحافت کے مرکزی دھارے میں شمولیت کے لیے ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو انھوں نے فرمایا گنجائش نہیں ہے۔ عرض کی ’کہتے ہیں کہ اچھے کارکنوں کی اخبار کو ہر وقت ضرورت ہوتی ہے جناب وحید قیصر کے جان لیوا ٹیسٹ کا کٹھن مرحلہ عبور کر کے سسٹم کا حصہ بن گیا جو برادرم ایاز خان کی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ جناب مجید نظامی سے پہلا ٹاکرا انجینئر گلبدین حکمت یار کے انٹرویو کی وجہ سے ہوا جسے جناب نظامی نے لیڈ سٹوری کے طور پر شائع کرایا، انہیں بتایا گیا کہ شاہ جی (عباس اطہر) جماعت اسلامی کا نوائے وقت پر قبضہ کرانا چاہتے ہیں۔ اگلے روز میری طلبی ہو گئی۔ جناب نظامی نے پوچھا ’معاف کرنا تہاڈا جماعت اسلامی نال کی تعلق اے‘ یہ کالم نگار اس سوال کے لیے تیار نہیں تھا۔ نوائے وقت آمد سے ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کا طویل انٹرویو کرنے والے سینئر اخبار نویسوں کے ساتھ یہ مبتدی بھی شامل تھا جن کا تعارف انٹرویو کے آغاز پر دیا گیا تھا۔ نوائے وقت کے ادارتی صفحے پر یہ انٹرویو جوں کا توں تعارف سمیت شائع کیا گیا بصد احترام عرض کیا ’میرے جماعت اسلامی سے تعلق کے بارے میں نوائے وقت کے ادارتی صفحے پر تفصیل شایع ہو چکی ہے‘ اس جرات رندانہ پر قبلہ نظامی صاحب ششدر رہ گئے فرمایا ’معاف کرنا تہاڈا دماغ ٹھیک اے‘ تفصیلات کا علم ہونے پر تواضع کی توجہ اور محنت سے کام کرنے کی ہدایت کر کے بڑے پیار و محبت سے رخصت کیا۔ اس کے بعد جناب مجید نظامی سے ایسے قلبی تعلق خاطر کا آغاز ہوا جو ان کے پردہ فرمانے کے بعد بھی جاری و ساری ہے جس میں مزید وسعت اور گہرائی جنت مکانی انکل نسیم انور بیگ کی وجہ ہوئی جو ہر معاملے میں اس گناہ گار کو شریک کر لیتے تھے۔ ان کے احسانات اور محبتوں کا شمار ممکن نہیں۔ 90 کی دہائی کے آغاز پر آصف زرداری کو اس کالم نگار کے بارے میں گمراہ کرکے ڈکیتی جیسے سنگین مگر بے بنیاد مقدمات میں ا±لجھایا گیا۔ ریاستی جبر سے بچنے کےلئے چھ ماہ زیر زمین رہنا پڑا مرحوم اظہر سہیل ’اللہ تعالی اس کی خطائیں معاف کرے ‘ہمارے تعاقب میں تھے’ ہر عدالت سے ضمانتیں منسوخ ہو چکی تھیں مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے چھا ئے ہوئے تھے کہ جناب مجید نظامی امید اور روشنی بن کر نمودار ہوئے۔ برادرم جواد نظیر اور قبلہ شاہ جی (عباس اطہر )نے انھیں حالات واقعات سے آگاہ کیا تو جناب نظامی صاحب نے ہماری مدد کرنے میں ذرا بھر توقف نہیں کیا، ضمانتوں کی توثیق کے بعد حاضر ہوا تو فرمایا ’معاف کرنا ہن تسیں بچے نئیں ذرا دھیان کریا کرو‘ واضح رہے کہ نوائے وقت سے دو درجن اجتماعی استعفوں کی وجہ سے بزرگوارم اس خاکسار پر شدید ناراض تھے لیکن مشکل میں شجر سایہ دار بن کر ہمیں کڑی دھوپ سے بچا لیا۔ میری جسارتوں اور الٹی سیدھی باتوں پر خوش ہوتے حوصلہ افزائی کرتے۔ ایک بار کسی مسئلے پر جناب نظامی صاحب کے نام کھلا خط بھی لکھ ڈالا تھا جس ناراض ہونے کی بجائے ملاقات پر صرف اتنا کہہ کر معاملہ نمٹادیا کہ تمہیں جلد اپنی غلطی کا احساس ہو جائے گا۔ مجھے انکار اب یاد آرہا ہے کہ صرف ایک بار مجھے انکارکیا، ہوا یوں کہ پنجاب کی پگ والے بھائی رشید بھٹی رائے ونڈ سے رکن پنجاب اسمبلی اور ان کے بھائی جمیل اصغر بھٹی کو ماورائے آئین قتل کرنے کا حکم شاہی جاری ہوچکا تھا، جمیل میرا یار دلدار ہے ایک عزیز پولیس افسر سے رات کی مہلت لے کر بھاگم بھاگ لاہور پہنچا جناب نظامی صاحب کو ساری رام کہانی سنائی وہ زمینوں کے کاروبار سے جنم لینے والی کہانیوں سے بخوبی آگاہ تھے فرمانے لگے “معاف کرنا قتل تے قبضہ گروپاں تو مینوں باہر ہی رہن دیو“ ورنہ ہر پیچیدہ معاملہ لے کر حاضر ہو جاتا اور کبھی مایوس نہ ہوا۔ بھائی رشید بھٹی تحریک انصاف سے ہوتے ہوئے طویل مسافت طے کرکے اب رائے ونڈ سے نون لیگ کے امیدوار ہیں اور ڈٹ کر ووٹ کو عزت دے رہے ہیں۔ جناب مجید نظامی کی دلیری اور برجستگی تو ضرب المثل بن گئی تھے۔ جنرل ضیا بھارت کے دورے پر جارہے تھے شرارتاً نظامی صاحب کو ساتھ چلنے کی دعوت دی تو نظامی نے برجستہ جواب دیا ”جنرل ٹینک تے بیھ کے جارہے او تے میں تیار آں ورنہ اپنی راہ پھڑو‘ وہ برملا کہتے کہ مجھے شاہین یا ابدالی کے ساتھ باندھ کر بھارت پر پھینک دو۔ اس بات پر یہ کالم نگار ان سے الجھتا کہ آپ ایسی غیر سنجیدہ بات نہ کیا کریں وہ مسکراتے ہوئے فرماتے “ تینوں ایس حکمت دا پتہ میرے بعد لگے گا! اور آج موذی مودی کی بولیاں دہلی نہیں اسلام آباد اور لاہور میں بولی جارہی ہیں۔(جاری ہے)

تحریر محمد اسلم خان

اپنا تبصرہ بھیجیں