کرپشن سے پاک پاکستان، امام صحافت کی نظر میں! (نوائے وقت)

کہیں حرکت تیز تر اور سفر آہستہ آہستہ والا معاملہ تو نہیں ، یا سفر کہیں دائروں کا تو نہیں؟ جس طرح چلتی کا نام گاڑی ہے ، اسی طرح سفر وہ جو وسیلہ ظفر ہو یا سفر وہ جو منزل پر جاکر دم لے! یہ طے ہے کہ، اقوام تبھی منزلوں تک پہنچتی ہیں اگر یہ رخت سفر باندھتے ہوئے بدعنوانی کے ساز و سامان دور پھینک کر چلیں!
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ، ایک گفتگو میں سیاسی نباض، تحریکی ریاض اور صحافتی فیاض مجید نظامی محترم نے بطور خاص مجھ سے مخاطب ہو کر کہا کہ : ہم اور ہمارے آبا نے تحریک پاکستان کو نتیجہ خیز اور ثمربار بنایا۔ نظریاتی قوت ہی نے قیام پاکستان کو جلا بخشی۔ اب تحریک استحکام پاکستان کی برپائی کی اشد ضرورت ہے۔ ایٹمی پاکستان بن جانے کے باوجود اس کی نظریاتی آبیاری لازمی ہے! اب یہ ضروری ہے کہ، اقوام عالم میں سینہ تان کر کھڑے ہونے کیلئے پاکستان کو کرپشن فری بنائیں، اور یہ کام اب نئی پود کا ہے۔ کرپشن فری پاکستان خواص کے طرز عمل ہی سے بنے گا۔ ” جہاں تک مجھے یاد ہے، یہ باتیں الیکشن 2013 کے لگ بھگ کی ہیں۔ انہوں نے “کرپشن فری پاکستان ہی بنیاد ہے استحکام پاکستان کی” کے حوالے سے جو چند نکات کہے وہ کم و بیش یوں تھے کہ : (1) سب سے پہلے پارلیمنٹ کو اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا۔ (2) بیوروکریسی کو جامے سے باہر ہونے پر قدغن لگانی پڑے گی۔ (3) شخصیات یا کسی مخصوص ادارے کو ریاست سے بڑھ کر قد کاٹھ سے اجتناب کرنا ہوگا۔ (4) گڈ گورننس کا راگ الاپنے والوں کو ہر پل و ہر سو خود احتسابی سے کام لینا ہوگا۔ (5) عدلیہ میں عادلوں کو عدل سے انصاف کرنا ہوگا۔ (6) سیاستدان اگر سیاست کی روح سے واقف ہوجائیں تو اخلاص سے بھری خدمت اور حقیقت سے آشنا جمہوریت پائیدار ہوجائیں، پھر انسانی حقوق کا بول خودبخود بالا ہوجائے گا اور کرپشن فری پاکستان کے راستے ازخود ہموار ہوجائیں!ان دنوں پانی کے بحران اور کالا باغ ڈیم کی بحث و تمحیص، پھر چیف جسٹس کا بطور خاص نظامی صاحب کے 27 مئی 2008 کے آرٹیکل ” دی واٹر بم ” کا تذکرہ، گزرنے والا یوم تکبیر، الیکشن مہم 2018 کی گہما گہمی اور یہ 26 رمضان 1435ھ ( 26 جولائی 2014 ) جب نوائے عشق مجید نظامی اس جہاں فانی سے کوچ کر گئے،۔۔۔۔ وہ حوالے ہیں کہ، جو دل و دماغ پر دستک دے رہے تھے، کہ مجید نظامی محترم کی ذات کی دانش گاہ، نظریاتی بصیرت اور مزاج کی تربیت گاہ نے نوائے وقت کو نوائے عشاق بنایا۔ میں بھلا یہ کیسے فراموش کرسکتا ہوں کہ، مجھ عام سے کالم نگار کو انہوں نے آغاز ہی سے ادارتی کالم نگار کا اعزاز بخشا۔ اور بعد ازاں وقت ٹی وی کے پروگرام “نوائے وقت ٹو ڈے” (نیوز لاو¿نج) میں 2012 میں تجزیہ نگاری کا موقع فراہم کیا۔ میں یہ بات کیسے بھول سکتا ہوں کہ، میں ایک ادنیٰ سا قلم کار و تجزیہ کار تھا، تاہم نظامی صاحب کے حسن نظر اور حسن سلوک نے ایک سایہ فراہم کیا جو مجاہد تحریک پاکستان اور صحافت کی آن کی ایک ذرہ نوازی تھی کہ، بذریعہ خط بھیجی ہوئی تحریر جس سے قبل کوئی ملاقات بھی نہ تھی ، بس اس تحریر کو انہوں نے ایک سلسلے کا روپ دے دیا۔اس دفعہ مجھے عام انتخابات کا ذائقہ سیاسی نباض کے بغیر کچھ بے مزہ سا لگ رہا ہے۔ الیکشن 1985ءسے ہم بھی انتخابی اتار چڑھاو¿ سے آشنا ہیں۔ امام صحافت کے علاوہ، وہ جو اس دور کے درخشندہ ستارے جو بےنظیر بھٹو، نوابزادہ نصراللہ خان، پروفیسر غفور ، قاضی حسین احمد اور شاہ احمد نورانی کی شکل میں تھے وہ اب سیاسی افق پر کہیں دکھائی نہیں دیتے، اور نہ کوئی ان کا خلاء پر کرسکا!
اگر صحافتی قیادت، دوراندیش اور نظریاتی یا وطن دوست ہو تو سیاسی قیادت کو بھی فہم اور رہنمائی سے مستفیض کرتی ہے کیونکہ چشم بینا رکھنے والی صحافتی قیادت سماجیات اور سیاسیات کو ہم آہنگ کرکے دیکھتی ہے۔ ایک دفعہ جنرل ایوب خان نے صحافتی نزاکت پر کوئی تنقید کی تو نظامی صاحب نے برملا کہا جس کا مفہوم کچھ یہ نکلتا ہے کہ، آپ اپنا کاروبار چھوڑ کر جہاد بالقلم کر کے دیکھ لیجئے۔ ایوب خان اس لئے نظامی صاحب کو ٹف ٹائم دیتے کیونکہ صدارتی انتخابات میں انہوں نے ایوب خان کے مقابلہ پر محترمہ فاطمہ جناح کو سپورٹ کیا۔ پھر یہ بھی کہاں بھولتا ہے کہ جب میاں نواز شریف ایٹمی دھماکہ کرنے کے معاملہ میں بین الاقوامی دباو¿ کے سبب لیت و لعل سے کام لے رہے تھے تو نظامی صاحب کا براہ راست کہنا تھا ، دھماکہ کردیں نہیں تو میں آپ کا دھماکہ کردوں گا۔ قبل اس کے کہ قوم آپ کا دھماکہ کرے ! حقیقی جمہوریت سے رغبت کی بدولت آصف علی زرداری کے استقلال سے قید کاٹنے پر اسے مرد حر قرار دیا۔ خواص سے عوام تک سبھی مجید نظامی کی بات پر کان دھرتے اور تحریر اور دلیل کا وزن سمجھتے کیونکہ زمانہ ان کی تحریکی ریاضت اور نظریاتی صداقت کا قائل تھا۔ جناب نظامی نے ایوان اقتدار میں بڑے بڑے حکومتی عہدوں کی پیشکش کو کئی بار ٹھکرایا، قلم کی حرمت اور صحافت کی نظریاتی علمبرداری ہی کو مقدس جانا۔ ان کا بچھڑنا کئیوں کے مرشد، لیڈر اور رہبر کا کوچ کرجانا تھا، اللہ نے انہیں بابرکت رمضان کے 26 ویں روزے کا دن عنایت کیا۔ ہم سب ان کیلئے جنت میں اعلیٰ مقام کے دعاگو ہیں۔
عصر حاضر میں زمانے کے رنگ بدلے گئے۔ اب تو انتخابی خدو خال سے یوں لگتا ہے جیسے نظریاتی سیاست کی جگہ اب کاروباری سیاست عام ہوگئی ہو۔ گالی اور بہتان کی کثرت اور شائستگی کا فقدان ہے۔ ادھر صحافت میں بھی تجزیہ کاریوں کی جگہ فنکاریوں کا رواج بڑھتا جارہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے نئی نسل ان لوگوں کی تاریخ سے سیکھے جن کی ہنوز خالی ہے۔ عالم خود ہی دیکھ لیجیے کہ، پی ٹی آئی کے امیدواران قومی اسمبلی کی لسٹ پر نظر پڑی تو صادق آباد سے درہ خیبر تک پی پی پی کے بے شمار چہروں کو سہ رنگی سے دورنگی میں بدلے دیکھا، ایک رنگ مائنس تھا۔ یہی نہیں مسلم لیگ کی یک رنگی پر بھی دورنگی کا تغیر موجود تھا۔ جہاں تک انتخابی ہلچل کے انوکھے رنگ کی بات ہے، یہ پہلی بار نہیں، اس سے قبل اس کے 10 دفعہ مزے چکھ چکے ، یہ گیارہواں الیکشن ہے۔ البتہ ارتقا یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اب برادری کھڑپینچ تو کیا یہاں خاندان کے بڑے کو بھی نہیں معلوم کہ، اس کے کنبے میں سے کون کس کو ووٹ دے گا۔ بالخصوص شہری علاقوں میں ایک سے زیادہ پارٹیاں دہلیز پار کر کے ایک گھر میں گھس چکی ہیں۔
تعلیم پہلے سے زیادہ، سیاسی شعور ماضی سے زیادہ ہونے کا دعوٰی، بے شمار اخبارات ہی نہیں ایک پی ٹی وی سے بڑھ کر کوئی سو سے زائد مختلف چینل گھر گھر بج رہے ہیں۔ قائدین بے حساب اور ان کے دعوے لاجواب۔ پھر دنیا بھی گلوبل ولج بن چکی، ہر دوسرے بالغ ہاتھ میں ایک سمارٹ فون مگر سیاسی بلوغت کا فقدان اور قحط الرجال اپنی جگہ۔ پیش منظر اور پس منظر 1950 سے 1985 تک والا ہی۔ عوام اسی طرح آنکھوں میں امید کے پیام لے کر معجزوں، کرشموں اور کرامتوں کے منتظر! وہ جو ضرورت تھی کہ، سیاسی جماعتیں انسٹیٹیوشنز بنیں ، اس کی امید دم توڑ گئی۔ عمران خان کا نئے پاکستان کے خواب کا شرمندہ تعبیر ہونا بھی خواب بن چکا۔ تحریک انصاف نے بھی مٹھی بھر انصافیوں کو ٹکٹیں دیں باقی ق و ن لیگ اور پیپلزپارٹی سے آنے والے “نو تحریکی” مگر پرانے وڈیرے، نواب، سردار، چوہدری اور ملک لے اڑے۔ حصول اقتدار کے یہ ماہر عمران خان اور عوام سے حسب روایت امیدوں کے پیام بھی لے اڑیں گے۔ چاروں صوبوں کی زنجیر بے نظیر جو وفاق کی علامت بھی کہلاتی تھیں اس کے بعد پیپلزپارٹی سندھ تک رہ گئی، آج پنجاب میں روایتی سیاستدان پیپلزپارٹی کے ٹکٹ کو ہار کی علامت سمجھ کر ٹھکرا رہے ہیں، تاہم ن لیگ ابھی مضبوط ہے لیکن پنجاب کے بڑے ہونے کی برکت سے ورنہ وہ بھی “اپنے سندھ” تک محدود ٹھہرے۔ جماعت اسلامی کی شیلف لائف مکمل ہوچکی، اور وہ ایم ایم اے کے شیلٹر میں بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ ایم کیو ایم کا اپنی نادانیوں کے سبب کوئی پرسان حال نہیں۔ اے این پی نظریہ کی وسعتوں سے نکل کر خاندانی اجارہ داری میں مقید ہوگئی تاہم مولانا فضل الرحمن کا ایک محدود طلسم ہے سو وہ گیدڑ سنگھی ابھی وہ رکھتے ہیں۔ ق لیگ ایک اپنی جگہ کنونشن لیگ تھی جو انجام کو پہنچی۔ مقابلے پر سبھی پارٹیوں کے ہاں نظریہ ہے نہ کوئی پروگرام۔
اللہ خیر کرے ، اقتدار کی ہما جس پر سجے اگر اس نے کرپشن فری پاکستان کا نہ سوچا تو خواب ادھورے ہی رہیں گے اور منزل دور۔ پانی کا مسئلہ، نیوٹریشن کا مسئلہ، ٹریفک کے مسائل، تعلیمی مسائل ، صحت اور فراہمی انصاف کے مسائل کو حل کرنا ہوگا۔ اگر یہ سب درکار ہے تو صحافت کو بھی قلم کی حرمت کا خیال کرنا ہوگا بذریعہ صحافت جانبداری اور سیاست کاری انسانی حقوق کبھی نہیں ملنے دیتی! سیاست کو قائد اعظم و لیاقت علی ، مولانا مودودی و مفتی محمود و نورانی و نوابزادہ نصراللہ اور ذوالفقار علی بھٹو درکار ہیں اور سنگ سنگ صحافت کو نظامی بھی۔ سب ممکن ہے سب موجود ہے گر کوئی نظریہ اور وطن دوستی کا دامن تھام لے۔ کوئی حرص و ہوس کو چھوڑ کر تو دیکھے:
تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا
ورنہ گلشن میں علاج تنگئی داماں بھی ہے
زندہ اقوام علاج تنگئی داماں کیلئے اپنی تاریخ اور تاریخی اشخاص سے روحانی و سیاسی و نظریاتی قوت لیتی ہیں۔ صرف روایتی سیاست، سطحی صحافت، تربیت سے خالی تعلیمات اور دائروں کا سفر کافی نہیں!

تحریر: نعیم مسعود

اپنا تبصرہ بھیجیں